السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة وأن لبن الفحل يحرم باب: رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب (پیدائش) سے حرام ہوتے ہیں، اور اس بات کا بیان کہ ”لبن الفحل“ (یعنی جس مرد کے نطفے کی وجہ سے عورت کو دودھ اترا ہو وہ) بھی حرمت کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 15617
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا ابْنُ قَعْنَبٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَأَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا غُلَامًا وَأَرْضَعَتِ الْأُخْرَى جَارِيَةً فَقِيلَ يَتَزَوَّجُ الْغُلَامُ الْجَارِيَةَ، فَقَالَ: " لَا اللِّقَاحُ وَاحِدٌ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شرید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس کی دو بیویاں ہیں، ان میں سے ایک نے لڑکے کو دودھ پلایا اور دوسری نے لڑکی کو دودھ پلایا، کیا لڑکا اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ کیونکہ ان کا نطفہ یا ان کو حاملہ کرنے والا ایک ہی ہے۔