السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة وأن لبن الفحل يحرم باب: رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب (پیدائش) سے حرام ہوتے ہیں، اور اس بات کا بیان کہ ”لبن الفحل“ (یعنی جس مرد کے نطفے کی وجہ سے عورت کو دودھ اترا ہو وہ) بھی حرمت کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 15616
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ: " قَالَ لَا تَنْكِحْ مَنْ أَرْضَعَتْهُ امْرَأَةُ أَبِيكَ، وَلَا امْرَأَةُ ابْنِكَ، وَلَا امْرَأَةُ أَخِيكَ ".حافظ ثناء اللہ
ایاس بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تو اس سے نکاح نہ کر جس کو تیرے باپ کی بیوی نے دودھ پلایا ہو اور نہ جس کو تیرے بیٹے کی بیوی نے دودھ پلایا ہو اور نہ جس کو تیرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہو۔