السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة وأن لبن الفحل يحرم باب: رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب (پیدائش) سے حرام ہوتے ہیں، اور اس بات کا بیان کہ ”لبن الفحل“ (یعنی جس مرد کے نطفے کی وجہ سے عورت کو دودھ اترا ہو وہ) بھی حرمت کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 15618
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا مُعَلَّى، نا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ " وَرُوِّينَا هَذَا الْمَذْهَبُ مِنَ التَّابِعِينَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي الشَّعْثَاءِ، وَعَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَالزُّهْرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رضاعت سے وہ (رشتے) حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔“
اور ہم کو یہ مذہب تابعین میں سے قاسم بن محمد، جابر بن زید، ابو شعثاء، عطاء، طاؤس، مجاہد اور زہری سے نقل کیا گیا ہے۔