السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة وأن لبن الفحل يحرم باب: رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب (پیدائش) سے حرام ہوتے ہیں، اور اس بات کا بیان کہ ”لبن الفحل“ (یعنی جس مرد کے نطفے کی وجہ سے عورت کو دودھ اترا ہو وہ) بھی حرمت کا باعث ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لَكَ فِي دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ؟ قَالَ: " فَأَفْعَلُ مَاذَا؟ " قَالَتْ: قُلْتُ: تَنْكِحُهَا قَالَ: " أَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟ " قُلْتُ: لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ يَشْرَكُنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي قَالَ: " فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ " قُلْتُ: فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ: " ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " فَوَاللهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي لَقَدْ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ، وَقَالُوا فِيهِ عَنْ هِشَامٍ: دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ وَكَذَلِكَ قَالَهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ وَقَالَ: أَنْكِحْ أُخْتِي عَزَّةَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ.نبی ﷺ کی زوجہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ کے لیے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی بیٹی درہ میں کوئی رغبت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیا کروں؟“ فرماتی ہیں: میں نے کہا: آپ اس سے نکاح کر لیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو یہ پسند کرتی ہے؟“ میں نے کہا: میں آپ کے لیے علیحدہ ہونے والی نہیں ہوں اور میں پسند کرتی ہوں کہ جو مجھے ملے اس میں میری بہن بھی شریک ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔“ میں نے کہا: مجھے تو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ﷺ نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما کو نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ام سلمہ کی بیٹی؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری پرورش میں نہ ہوتی تو میرے لیے حلال ہوتی، لیکن اب وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ مجھے اور اس کے باپ کو «ثُوَيْبَةَ» نے دودھ پلایا ہے۔ تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ پر پیش نہ کیا کرو۔“ اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں حمیدی سے روایت کیا ہے اور اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند عن ہشام سے نکالا ہے، انہوں نے کہا کہ اس میں ہشام سے روایت ہے، درہ بنت ابی سلمہ کے الفاظ ہیں اور اسی طرح اس کو زہری رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے اور کہا: آپ میری بہن عزہ سے نکاح کر لیں اور بعض نے زہری رحمہ اللہ سے کہا (کہ آپ ﷺ نے فرمایا): ”مجھے اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کو «ثُوَيْبَةَ» لونڈی نے دودھ پلایا ہے۔“