السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة وأن لبن الفحل يحرم باب: رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب (پیدائش) سے حرام ہوتے ہیں، اور اس بات کا بیان کہ ”لبن الفحل“ (یعنی جس مرد کے نطفے کی وجہ سے عورت کو دودھ اترا ہو وہ) بھی حرمت کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 15614
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُسْلِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: قِيلَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ عَنِ ابْنَةِ حَمْزَةَ أَوْ قِيلَ: لَا تَخْطُبُ ابْنَةَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ قَالَ: " إِنَّ حَمْزَةَ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ الْأَيْلِيِّ وَغَيْرُهُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.حافظ ثناء اللہ
حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں نے نبی ﷺ کی زوجہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ سے کہا گیا: سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یا کہا گیا: آپ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کا پیغام نہیں بھیجتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک حمزہ میرا رضاعی بھائی ہے۔“
اس کو مسلم نے اپنی صحیح میں ہارون ایلی اور اس کے علاوہ ابن وہب سے روایت کیا ہے۔