❮
❯
حدیث نمبر: 15613
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ ⦗٧٤٥⦘ بْنُ عَبْدِ اللهِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَالِي أَرَاكَ تَتَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ: " عِنْدَكَ شَيْءٌ؟ " قُلْتُ: نَعَمِ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ: " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ (نکاح کے لیے) قریش میں رغبت رکھتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے پاس کوئی چیز ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں! حمزہ کی بیٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔“ اس کو مسلم نے صحیح میں محمد بن ابی بکر مقدمی سے روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرضاع / حدیث: 15613
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ 1446»