السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة وأن لبن الفحل يحرم باب: رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب (پیدائش) سے حرام ہوتے ہیں، اور اس بات کا بیان کہ ”لبن الفحل“ (یعنی جس مرد کے نطفے کی وجہ سے عورت کو دودھ اترا ہو وہ) بھی حرمت کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 15613
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ ⦗٧٤٥⦘ بْنُ عَبْدِ اللهِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَالِي أَرَاكَ تَتَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ: " عِنْدَكَ شَيْءٌ؟ " قُلْتُ: نَعَمِ ابْنَةُ حَمْزَةَ قَالَ: " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ نے قریش اور ہمیں چھوڑ دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے پاس کوئی چیز ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں! حمزہ کی بیٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔“ اس کو مسلم نے صحیح میں محمد بن ابی بکر مقدمی سے روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔