السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة وأن لبن الفحل يحرم باب: رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب (پیدائش) سے حرام ہوتے ہیں، اور اس بات کا بیان کہ ”لبن الفحل“ (یعنی جس مرد کے نطفے کی وجہ سے عورت کو دودھ اترا ہو وہ) بھی حرمت کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 15612
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ، أنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، نا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ فَقَالَ: " إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ وَإِنَّ اللهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ " وَفِي رِوَايَةِ هُدْبَةَ: " إِنَّهَا لَا تَصْلُحُ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے لیے حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کا ارادہ کیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے وہ سب حرام کیا ہے جو نسب سے حرام کیا ہے۔“ اور ہدبہ کی روایت میں ہے کہ: ”وہ میرے لیے درست نہیں ہے کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت سے جو حرام ہوتا ہے، نسب سے بھی وہ حرام ہوتا ہے۔“
بخاری نے اس کو صحیح میں مسلم بن ابراہیم سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس کو ہدبہ بن خالد سے روایت کیا ہے۔