السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة وأن لبن الفحل يحرم باب: رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب (پیدائش) سے حرام ہوتے ہیں، اور اس بات کا بیان کہ ”لبن الفحل“ (یعنی جس مرد کے نطفے کی وجہ سے عورت کو دودھ اترا ہو وہ) بھی حرمت کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 15611
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، ح قَالَ: وَأنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَمَّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ يُسَمَّى أَفْلَحُ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَحَجَبَتْهُ فَأَخْبَرَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: " لَا تَحْتَجِبِي فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میرے رضاعی چچا افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے ان سے پردہ کیا، پھر آپ ﷺ کو بتلایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان سے پردہ نہ کر، کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔“ اس کو مسلم نے صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے۔