السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة وأن لبن الفحل يحرم باب: رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب (پیدائش) سے حرام ہوتے ہیں، اور اس بات کا بیان کہ ”لبن الفحل“ (یعنی جس مرد کے نطفے کی وجہ سے عورت کو دودھ اترا ہو وہ) بھی حرمت کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 15610
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، نا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا شُعْبَةُ، نا الْحَكَمُ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ فَلَمْ آذَنْ لَهُ فَقَالَ أَتَحْتَجِبِينَ مِنِّي وَأَنَا عَمُّكِ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي بِلَبَنِ أَخِي قَالَتْ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " صَدَقَ أَفْلَحُ فَائْذَنِي لَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھ سے ابوقعیس کے بھائی افلح نے اجازت طلب کی، میں نے اسے اجازت نہیں دی۔ اس نے کہا: کیا تو مجھ سے پردہ کرتی ہے اور میں تیرا چچا ہوں؟ فرماتی ہیں: میں نے کہا: یہ کیسے؟ اس نے کہا: تجھے میرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہے۔ فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”افلح نے سچ کہا، اسے اجازت دے۔“
اس کو بخاری نے صحیح میں آدم سے روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے ایک دوسری سند عن شعبہ سے نکالا ہے۔