السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: كيف الإحداد باب: سوگ کیسے منایا جائے اس کے طریقے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا: نا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي قَالَ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا وَخَشَوْا عَلَى عَيْنِهَا فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي بَيْتِهَا إِلَى الْحَوْلِ فَمَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ ثُمَّ خَرَجَتْ لَا، أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَكْتَحِلُ؟ فَقَالَ: " لَا " وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " لَا حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حمید بن نافع رحمہ اللہ نے مجھے خبر دی کہ میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ اپنی والدہ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتی ہیں کہ ان کا خاوند فوت ہو گیا، اس نے اپنی آنکھوں کی شکایت کی اور انہوں نے اس کی آنکھوں پر (بیماری کا) خوف محسوس کیا۔ نبی ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری عورتیں بدترین لباس اور بدترین گھر میں ایک سال تک رہتی تھیں۔ جب کتا گزرتا تو لید پھینکتی تھیں۔ پھر وہ نکلتی تھیں۔ اب صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔“ ابو داؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ سے سوال کیا گیا: ”کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ اور اس کے آخر میں فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ وہ چار ماہ اور دس دن گزارے۔“
اس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔