حدیث نمبر: 15523
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، نا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَسَلْبَنِي ثَلَاثًا ثُمَّ اصْنَعِي مَا شِئْتِ " ⦗٧٢١⦘ فَلَمْ يَثْبُتْ سَمَاعُ عَبْدِ اللهِ مِنْ أَسْمَاءَ وَقَدْ قِيلَ فِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ فَهُوَ مُرْسَلٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَالْأَحَادِيثُ قَبْلَهُ أَثْبَتُ فَالْمَصِيرُ إِلَيْهَا أَوْلَى وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ: ”تین دن سوگ گزار پھر جو چاہے کر۔“
عبداللہ (بن شداد) کا اسماء سے سماع ثابت نہیں ہے، اور اس میں «عن اسماء» بھی کہا گیا ہے، لہٰذا یہ مرسل ہے، اور محمد بن طلحہ قوی نہیں ہے، اور اس سے پہلے والی احادیث زیادہ ثابت ہیں، لہٰذا انہی کو اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔