السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: كيف الإحداد باب: سوگ کیسے منایا جائے اس کے طریقے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15525
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، نا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا لَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمْتَشِطُ وَلَا تَتَطَيَّبُ إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرَتِهَا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصَبٍ " ⦗٧٢٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ مُخْتَصَرًا، ثُمَّ قَالَ: وَقَالَ الْأَنْصَارُ نا هِشَامٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں ہے جو اللہ اور اس کے رسول اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر، وہ نہ سرمہ لگائے، نہ کنگھی کرے اور نہ خوشبو لگائے مگر اپنی طہارت کے وقت، اور نہ رنگ دار کپڑے پہنے سوائے باندھنے والے کپڑے کے۔“
اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔