کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: سوگ کیسے منایا جائے اس کے طریقے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15524
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا: نا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي قَالَ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا وَخَشَوْا عَلَى عَيْنِهَا فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي بَيْتِهَا إِلَى الْحَوْلِ فَمَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ ثُمَّ خَرَجَتْ لَا، أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَكْتَحِلُ؟ فَقَالَ: " لَا " وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " لَا حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حمید بن نافع رحمہ اللہ نے مجھے خبر دی کہ میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ اپنی والدہ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتی ہیں کہ ان کا خاوند فوت ہو گیا، اس نے اپنی آنکھوں کی شکایت کی اور انہوں نے اس کی آنکھوں پر (بیماری کا) خوف محسوس کیا۔ نبی ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری عورتیں بدترین لباس اور بدترین گھر میں ایک سال تک رہتی تھیں۔ جب کتا گزرتا تو لید پھینکتی تھیں۔ پھر وہ نکلتی تھیں۔ اب صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔“ ابو داؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ سے سوال کیا گیا: ”کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ اور اس کے آخر میں فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ وہ چار ماہ اور دس دن گزارے۔“
اس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15524
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 15525
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، نا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا لَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمْتَشِطُ وَلَا تَتَطَيَّبُ إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرَتِهَا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصَبٍ " ⦗٧٢٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ مُخْتَصَرًا، ثُمَّ قَالَ: وَقَالَ الْأَنْصَارُ نا هِشَامٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں ہے جو اللہ اور اس کے رسول اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر، وہ نہ سرمہ لگائے، نہ کنگھی کرے اور نہ خوشبو لگائے مگر اپنی طہارت کے وقت، اور نہ رنگ دار کپڑے پہنے سوائے باندھنے والے کپڑے کے۔“
اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15525
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15526
فَذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، نا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، نا الْأَنْصَارِيُّ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُحِدَّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصَبٍ وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا إِلَى أَدْنَى طُهْرَتِهَا إِذَا طَهُرَتْ بِنُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ: ”عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، مگر اپنے خاوند پر، وہ اس پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے، اور نہ رنگ دار کپڑے پہنے، نہ ہی سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے مگر اپنے طہر کے قریب، جب وہ پاک ہو جائے تو ایک پھوہا کستوری کا لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15526
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15527
حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ، أنا يَزِيدُ، أنا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصَبٍ وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا إِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ حَيْضِهَا مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ، وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ وَلَا تَخْتَضِبُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے، وہ نہ رنگ دار کپڑے پہنے اور نہ ہی وہ سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے مگر اپنے طہر کے قریب جب وہ غسل کرے اپنے حیض سے تو ایک پھوہا کستوری سے۔“ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15527
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15528
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن حسان رحمہ اللہ نے اس کو اسی طرح ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15528
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15529
وَرَوَاهُ يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ، فَقَالَ " مَكَانَ عَصَبٍ إِلَّا ثَوْبًا مَغْسُولًا " أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن بکیر نے بھی اس حدیث کو اسی طرح ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15529
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15530
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنا أَبُو الْمُثَنَّى، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى هَالِكٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا ⦗٧٢٣⦘ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا وَلَا ثَوْبَ عَصَبٍ وَلَا تَكْتَحِلُ بِالْإِثْمِدِ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا إِذَا تَطَهَّرَتْ مِنْ حَيْضِهَا بِنُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ " كَذَا قَالَ: " وَلَا ثَوْبَ عَصَبٍ " وَبَلَغَنِي عنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ أَنَّهُ رَوَاهُ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ كَذَلِكَ وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ بِخِلَافِ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی ہلاک ہونے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر وہ چار مہینے اور دس دن سوگ کرے اور نہ وہ رنگ دار لباس پہنے اور نہ ہی سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے اور نہ ہی خضاب لگائے، مگر اپنے طہر کے وقت جب وہ اپنے حیض سے غسل کرے تو کستوری کا ایک پھوہا لے لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15530
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15531
وَقَدْ رَوَاهُ عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ نَحْوَ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ أَخْبَرَنَاه أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أَنَا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، فَذَكَرَهُ نَحْوَ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ وَقَالَ: " إِلَّا ثَوْبَ عَصَبٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الْخِضَابَ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن حسان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے باندھنے والے کپڑے کے علاوہ خضاب کا ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15531
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15532
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، نا حَمَّادٌ، نا أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا نَكْتَحِلُ وَلَا نَتَطَيَّبُ وَلَا نَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصَبٍ وَقَدْ رَخَّصَ فِي طُهْرِهَا إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْحَجَبِيِّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”ہمیں منع کیا جاتا کہ ہم کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کریں مگر خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کریں، اور ہم نہ سرمہ لگائیں اور نہ خوشبو لگائیں اور نہ ہی رنگ دار کپڑے پہنیں مگر اس کے طہر میں رخصت ہے جب اپنے حیض سے غسل کرے تو کستوری کا ایک پھوہا پکڑے“۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15532
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ح وَنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْمُتَوَفَّى عَنْهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ وَلَا الْمُمَشَّقَةَ وَلَا الْحُلِيَّ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَكْتَحِلُ " لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ وَزَادَ الصَّغَانِيُّ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ: وَحَدَّثَنِي بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ قَالَ: " لَمْ أَرَهُمْ يَرَوْنَ بِالصَّبْرِ بَأْسًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ عورت جس کا خاوند فوت ہو جائے، وہ زرد رنگ کے کپڑے نہ پہنے اور نہ ہی کنگھی کرے، نہ زیور پہنے اور نہ ہی خضاب لگائے اور نہ سرمہ لگائے۔“
یہ ابراہیم بن حارث کی حدیث کے الفاظ ہیں اور صنعانی نے اپنی روایت میں کچھ الفاظ زیادہ کیے ہیں کہ مجھے بدیل بن میسرۃ نے حدیث بیان کی کہ حسن بن مسلم فرماتے ہیں: میں نہیں سمجھتا کہ وہ «صَبِر» بوٹی کے لگانے میں کوئی حرج محسوس کرتے ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15533
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15534
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، ⦗٧٢٤⦘ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لَا تَلْبَسُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا مِنَ الثِّيَابِ الْمُصَبَّغَةِ شَيْئًا وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَزَيَّنُ وَلَا تَلْبَسُ حُلِيًّا وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تُطَيِّبُ " وَهَذَا مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے، وہ رنگ دار کپڑوں میں سے کوئی بھی نہ پہنے اور نہ ہی وہ سرمہ لگائے اور نہ ہی خوبصورتی اختیار کرے اور نہ وہ زیور پہنے اور نہ وہ خضاب لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15534
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15535
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا نُمَيْرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَكْتَحِلُ وَلَا تُطَيِّبُ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا السُّودَ الْمُعَصَّبَ وَلَا تَبِيتُ غَيْرَ بَيْتِهَا وَلَكِنْ تَزُورُ بِالنَّهَارِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: ”جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے وہ نہ سرمہ لگائے، نہ خوشبو لگائے، نہ خضاب لگائے، نہ رنگے ہوئے کپڑے پہنے مگر سیاہ کپڑے پہنے اور کسی دوسرے کے گھر میں رات نہ گزارے، لیکن زیارت دن میں کر سکتی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15535
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»