السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: المستحاضة إذا كانت مميزة باب: مستحاضہ (بیماری کا خون آنے والی عورت) کا بیان جب وہ (خون کے درمیان) تمیز کر سکتی ہو
حدیث نمبر: 1550
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا ابْنُ كَرَامَةَ ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " لَيْسَ ذَلِكَ بِالْحَيْضِ إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي " وَهَذَا أَوْلَى أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا لِمُوَافَقَتِهِ رِوَايَةَ الْجَمَاعَةِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَاغْتَسِلِي " وَقَدْ قَالَهُ أَيْضًا ابْنُ عُيَيْنَةَ بِالشَّكِّ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
(الف) ہشام بن عروہ کی روایت میں ہے: کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے یہ رگ سے ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو غسل کر اور نماز پڑھ۔“
(ب) جماعت کی روایت کے موافق ہونے کی وجہ سے اس کا محفوظ ہونا زیادہ اولیٰ ہے مگر انہوں نے (راوی نے) اس میں ”تو غسل کر“ کہا ہے۔ (ج) ابن عیینہ نے بھی شک کے ساتھ بیان کیا ہے۔ واللہ اعلم۔