السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: المستحاضة إذا كانت مميزة باب: مستحاضہ (بیماری کا خون آنے والی عورت) کا بیان جب وہ (خون کے درمیان) تمیز کر سکتی ہو
حدیث نمبر: 1549
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ ثنا أَبُو بَكْرِ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗٤٨٣⦘ مُحَمَّدِ بْنِ يَاسِينَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ كَرَامَةَ الْكُوفِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ ح. قَالَ أَبُو بَكْرِ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ثنا أَبُو أُسَامَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَكِنْ دَعِي الصَّلَاةَ الْأَيَّامَ الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي " أَوْ كَمَا قَالَ: وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّ الْحَدِيثَيْنِ عَلَى لَفْظِ أَبِي أُسَامَةَ فَقَدْ رُوِّينَا عَنْ غَيْرِهِ عَلَى اللَّفْظِ الَّذِي رَوَاهُ الْجَمَاعَةُ عَنْ هِشَامٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَلَى اللَّفْظِ الَّذِي رَوَاهُ الْجَمَاعَةُ فِي إِقْبَالِ الْحَيْضِ وَإِدْبَارِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش نبی ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: میں استحاضہ والی ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رگ سے ہے، حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر اور نماز پڑھ“ «أَوْ كَمَا قَالَ»
(ب) میرا خیال ہے کہ دونوں روایتیں ابو اسامہ کے الفاظ پر ہیں۔ ابو اسامہ سے ان الفاظ میں بھی روایت کیا گیا ہے جنہیں ایک جماعت نے روایت کیا ہے، یعنی اپنے حیض کے آنے اور جانے کے دنوں میں۔