السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: إلا أن يأتين بفاحشة مبينة وأن لها الخروج في الموضع الذي استثنى الله تعالى من أن تأتي بفاحشة مبينة وفي العذر باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، اور اس امر کا بیان کہ جس صورت کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کیا ہے یعنی کھلی بے حیائی کے ارتکاب اور شرعی عذر کی بنا پر عورت کے لیے گھر سے نکلنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 15490
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ قَالَا: نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: تَزَوَّجَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ وَطَلَّقَهَا فَأَخْرَجَهَا مِنْ عِنْدِهِ فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ عُرْوَةُ فَقَالُوا: إِنَّ فَاطِمَةَ قَدْ خَرَجَتْ قَالَ عُرْوَةُ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ فَقَالَتْ: " مَا لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ خَيْرٌ فِي أَنْ تَذْكُرَ هَذَا الْحَدِيثَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.حافظ ثناء اللہ
ہشام رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے والد نے حدیث بیان کی کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن الحکم کی بیٹی سے شادی کی، پھر اسے طلاق دے دی اور اس کو اپنے پاس سے نکال دیا، اس پر اس معاملے میں عروہ رحمہ اللہ نے عیب لگایا، انہوں نے کہا: فاطمہ تحقیق نکل گئی تھی، عروہ رحمہ اللہ نے کہا: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، میں نے ان کو اس کی خبر دی تو انہوں نے کہا: فاطمہ بنت قیس کے لیے کوئی خیر نہیں کہ وہ اس حدیث کا ذکر کرے۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔