حدیث نمبر: 15491
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَتَّةَ فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَكَمِ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ: " اتَّقِ اللهَ يَا مَرْوَانُ فَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا " فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ: أَوْ مَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " لَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ فِي شَأْنِ فَاطِمَةَ "، فَقَالَ: إِنْ كَانَ إِنَّمَا بِكِ الشَّرُّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے، وہ قاسم اور سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان دونوں کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی کو «طَلَاقَ الْبَتَّةِ» ”قطعی طلاق“ دے دی ہے اور عبدالرحمن بن حکم نے اسے (اپنے گھر) منتقل کر لیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مروان بن حکم کے پاس پہنچیں اور وہ مدینہ کا امیر تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے مروان! اللہ سے ڈر اور اس عورت کو واپس لوٹا دے۔ مروان نے سلیمان کی حدیث کے حوالے سے کہا کہ عبدالرحمن نے مجھ پر غلبہ پا لیا ہے اور قاسم کی حدیث کے حوالے سے کہا: کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے معاملے کی خبر نہیں ہوئی؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تیرے لیے کوئی حرج نہیں کہ تو فاطمہ بنت قیس کا معاملہ ذکر نہ کرے۔ مروان نے کہا: اگر اس میں تیرے لیے کوئی شر ہو تو تجھے ان کے درمیان وہی شر کافی ہے۔
اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15491
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»