حدیث نمبر: 15489
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ح قَالَ: وَأنبأ سُلَيْمَانُ، نا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيُوسُفُ الْقَاضِي قَالَا: نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَا: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَلَا تَرَيْنَ إِلَّا فُلَانَةَ بِنْتَ الْحَكَمِ طُلِّقَتِ الْبَتَّةَ ثُمَّ خَرَجَتْ قَالَتْ: " بِئْسَ مَا صَنَعَتْ قُلْتُ ": أَلَا تَرَيْنَ إِلَى قَوْلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ قَالَتْ: " أَمَا إِنَّهُ لَا خَيْرَ لَهَا فِي ذِكْرِ ذَلِكَ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ کا فلاں بنتِ حکم کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اسے طلاقِ بتہ دی گئی، پھر وہ نکل گئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس نے جو کیا برا کیا، میں نے کہا: کیا آپ فاطمہ بنتِ قیس رضی اللہ عنہا کے قول کی طرف نہیں دیکھتیں؟ انہوں نے فرمایا: اس کے لیے اس کے ذکر میں کوئی خیر نہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15489
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»