السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: إلا أن يأتين بفاحشة مبينة وأن لها الخروج في الموضع الذي استثنى الله تعالى من أن تأتي بفاحشة مبينة وفي العذر باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، اور اس امر کا بیان کہ جس صورت کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کیا ہے یعنی کھلی بے حیائی کے ارتکاب اور شرعی عذر کی بنا پر عورت کے لیے گھر سے نکلنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 15489
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ح قَالَ: وَأنبأ سُلَيْمَانُ، نا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيُوسُفُ الْقَاضِي قَالَا: نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَا: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَلَا تَرَيْنَ إِلَّا فُلَانَةَ بِنْتَ الْحَكَمِ طُلِّقَتِ الْبَتَّةَ ثُمَّ خَرَجَتْ قَالَتْ: " بِئْسَ مَا صَنَعَتْ قُلْتُ ": أَلَا تَرَيْنَ إِلَى قَوْلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ قَالَتْ: " أَمَا إِنَّهُ لَا خَيْرَ لَهَا فِي ذِكْرِ ذَلِكَ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ کا فلاں بنتِ حکم کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اسے طلاقِ بتہ دی گئی، پھر وہ نکل گئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس نے جو کیا برا کیا، میں نے کہا: کیا آپ فاطمہ بنتِ قیس رضی اللہ عنہا کے قول کی طرف نہیں دیکھتیں؟ انہوں نے فرمایا: اس کے لیے اس کے ذکر میں کوئی خیر نہیں۔