السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: إلا أن يأتين بفاحشة مبينة وأن لها الخروج في الموضع الذي استثنى الله تعالى من أن تأتي بفاحشة مبينة وفي العذر باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، اور اس امر کا بیان کہ جس صورت کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کیا ہے یعنی کھلی بے حیائی کے ارتکاب اور شرعی عذر کی بنا پر عورت کے لیے گھر سے نکلنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 15488
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، نا يَحْيَى هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا " فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى " وَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ وَقَالَ عُرْوَةُ: وَأَنْكَرَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ.حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ وہ ابو حفص عمرو بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھیں، اس نے انہیں طلاق دے دی، انہوں نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں فتویٰ طلب کیا، آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ: ”وہ ابن ام مکتوم (رضی اللہ عنہ) کے ہاں منتقل ہو جائیں۔“ اور ابو مروان نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی تصدیق کی جو طلاق شدہ کے نکلنے کے بارے میں ہے اور عروہ کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث پر انکار کیا ہے۔