السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: مقام المطلقة في بيتها باب: طلاق یافتہ عورت کے اپنے ہی گھر میں قیام پذیر رہنے کا بیان۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الْمُطَلَّقَاتِ {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: 1].اللہ تبارک و تعالیٰ نے طلاق یافتہ عورتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ ”انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، سوائے اس کے کہ وہ کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔“ [سورة الطلاق: 1]
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " قَالَ إِسْحَاقُ: فَلَمَّا حَدَّثَ بِهِ الشَّعْبِيُّ حَصَبَهُ الْأَسْوَدُ وَقَالَ وَيْحَكَ تُحَدِّثُ أَوْ تُفْتِي بِمِثْلِ هَذَا قَدْ أَتَتْ عُمَرَ فَقَالَ: " إِنْ جِئْتِ بِشَاهِدَيْنِ يَشْهَدَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَّا لَمْ نَتْرُكْ كِتَابَ اللهِ بِقَوْلِ امْرَأَةٍ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: ١] ".سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں، میں نے منتقل ہونے کا ارادہ کیا، میں نبی ﷺ کے پاس آئی، نبی ﷺ نے فرمایا: ”تو ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جا۔“ اسحاق کہتے ہیں: جب اس کو شعبی نے بیان کیا تو اسود نے اس کو کنکری ماری اور کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو، تو بیان کرتا ہے یا فتویٰ دیتا ہے؟ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو دو گواہ لائے اور وہ گواہی دیں کہ ان دونوں نے اس کو رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، وگرنہ ہم اللہ کی کتاب کو ایک عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے اور اللہ کا قول یہ ہے: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ کسی واضح بے حیائی کا ارتکاب کریں۔“