السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: من قال: لا نفقة للمتوفى عنها حاملا كانت أو غير حامل باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک بیوہ کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے خواہ وہ حاملہ ہو یا غیر حاملہ۔
حدیث نمبر: 15478
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا يَحْيَى بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يُعْطِي لَهَا النَّفَقَةَ حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: " لَا نَفَقَةَ لَهَا " فَرَجَعَ عَنْ قَوْلِ ذَلِكَ، يَعْنِي فِي نَفَقَةِ الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَرَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَا نَفَقَةَ لَهَا وَجَبَتِ الْمَوَارِيثُ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما اپنی بیوی کو خرچہ دیتے تھے حتی کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس کے لیے خرچہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے اس قول سے رجوع کر لیا، یعنی جس حاملہ کا خاوند فوت ہو جائے اس کے لیے خرچہ ہے۔ اس کو عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، فرماتے ہیں کہ اس کے لیے خرچہ نہیں ہے، وراثت واجب ہے۔