السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: المستحاضة إذا كانت مميزة باب: مستحاضہ (بیماری کا خون آنے والی عورت) کا بیان جب وہ (خون کے درمیان) تمیز کر سکتی ہو
حدیث نمبر: 1546
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " لَا، إِنَّمَا ذَاكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: میں استحاضہ والی عورت ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز کو چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہ رگ سے ہے، حیض نہیں ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو اپنے آپ سے خون دھو اور نماز پڑھ۔“