حدیث نمبر: 1545
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي حَدِيثِ الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ: قَدْ أَخْبَرَنِيهِ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ: " قُرْءُ الْمَرْأَةِ أَوْ قَالَ: حَيْضُ الْمَرْأَةِ ثَلَاثٌ أَرْبَعٌ حَتَّى انْتَهَى إِلَى عَشْرَةٍ وَقَالَ لِي ابْنُ عُلَيَّةَ: الْجَلْدُ أَعْرَابِيٌّ لَا يَعْرِفُ الْحَدِيثَ وَقَالَ لِي: قَدِ اسْتُحِيضَتِ امْرَأَةٌ مِنْ آلِ أَنَسٍ فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْهَا فَأَفْتَى فِيهَا وَأَنَسٌ حَيٌّ فَكَيْفَ يَكُونُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَا قُلْتُ مِنْ عَلِمِ الْحَيْضِ وَيَحْتَاجُونَ إِلَى مَسْأَلَةِ غَيْرِهِ فِيمَا عِنْدَهُ فِيهِ عَلِمٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ: نَحْنُ وَأَنْتَ لَا نُثْبِتُ حَدِيثَ مِثْلِ الْجَلْدِ وَنَسْتَدِلُّ عَلَى غَلَطِ مَنْ هُوَ أَحْفَظُ مِنْهُ بِأَقَلَّ مِنْ هَذَا ⦗٤٨٠⦘ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ كَانَ حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ يُضَعِّفُ الْجَلْدَ وَيَقُولُ: لَمْ يَكُنْ يَعْقِلُ الْحَدِيثَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: وَأَمَّا خَبَرُ أَنَسٍ فَإِنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: ذَهَبْتُ أَنَا وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ إِلَى الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَنَسٍ فِي الْحَائِضِ فَذَهَبْنَا نُوقِفُهُ فَإِذَا هُوَ لَا يَفْصِلُ بَيْنَ الْحَائِضِ وَالْمُسْتَحَاضَةِ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الدَّارِمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا عَاصِمٍ عَنِ الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ فَضَعَّفَهُ جِدًّا وَقَالَ: كَانَ شَيْخًا مِنْ مَشَائِخِ الْعَرَبِ تَسَاهَلَ أَصْحَابُنَا فِي الرِّوَايَةِ عَنْهُ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْفَضْلِ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ: وَأَهْلُ الْبَصْرَةِ يُنْكِرُونَ حَدِيثَ الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ وَيَقُولُونَ: شَيْخٌ مِنْ شُيُوخِ الْعَرَبِ لَيْسَ بِصَاحِبِ حَدِيثٍ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: وَأَهْلُ مِصْرِهِ أَعْلَمُ بِهِ مِنْ غَيْرِهِمْ قَالَ يَعْقُوبُ: وَسَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ حَرْبٍ وَصَدَقَةَ بْنَ الْفَضْلِ وَإِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ وَبَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُمْ يُضَعِّفُونَ الْجَلْدَ بْنَ أَيُّوبَ وَلَا يَرَوْنَهُ فِي مَوْضِعِ الْحُجَّةِ. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الْجُنَيْدِيُّ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا الْبُخَارِيُّ قَالَ: ثنا عَبْدَانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ: أَهْلُ الْبَصْرَةِ يُضَعِّفُونَ حَدِيثَ الْجَلْدِ بْنِ أَيُّوبَ الْبَصْرِيِّ قَالَ: وَحَدَّثَنِي صَدَقَةُ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ يَقُولُ: مَا جَلْدٌ وَمَنْ جَلْدٌ وَمَنْ كَانَ جَلْدٌ ⦗٤٨١⦘ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا ابْنُ حَمَّادٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنَ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ يَعْنِي ابْنَ حَنْبَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ذَكَرَ الْجَلْدَ بْنَ أَيُّوبَ فَقَالَ: لَيْسَ يَسْوَى حَدِيثُهُ شَيْئًا، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي أَقَلِّ الْحَيْضِ وَأَكْثَرِهِ أَحَادِيثُ ضِعَافٌ قَدْ بَيَّنْتُ ضَعْفَهَا فِي الْخِلَافِيَّاتِ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورت کا قرء یا عورت کا حیض تین، چار سے دس دن تک ہوتا ہے۔
(ب) ابن علیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جلد بن ایوب دیہاتی حدیث میں قابلِ معرفت نہیں۔
(ج) مجھ سے ابن علیہ رحمہ اللہ نے کہا: آلِ انس کی ایک عورت مستحاضہ ہو گئی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا، انہوں نے فتویٰ دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ حیات تھے۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم اور آپ جلد بن ایوب کی حدیث کو ثابت نہیں سمجھتے اور اس سے کم کا استدلال اس سے غلط ہے جو زیادہ محفوظ ہے۔
(ر) حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور جریر بن حازم جلد بن ایوب کے پاس گئے تو اس نے معاویہ بن قرہ کی حدیث جو حائضہ کے متعلق سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے بیان کی۔ ہم ان کی موافقت کرتے ہیں کہ وہ حائضہ اور مستحاضہ میں فرق نہیں کرتے۔
(س) احمد بن سعید دارمی رحمہ اللہ نے ابو عاصم رحمہ اللہ سے جلد بن ایوب کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کے متعلق سخت ضعیف کا حکم لگایا۔
(ص) عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل بصرہ حدیثِ جلد بن ایوب کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ شیوخِ عرب میں سے ہے، محدث نہیں ہے۔
(ط) ابن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل مصر دوسروں کی نسبت اس کے متعلق زیادہ جانتے ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے معلوم ہوا ہے کہ وہ (اہل مصر) جلد بن ایوب کو ضعیف قرار دیتے تھے اور اس کی روایات کو قابلِ حجت نہیں سمجھتے تھے۔
(ع) ابن مبارک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اہل بصرہ جلد بن ایوب کی حدیث کو ضعیف قرار دیتے تھے۔ ابن عیینہ رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: جلد کون ہے اور کہاں سے ہے؟
(ف) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے جلد بن ایوب کے متعلق سنا کہ اس کی حدیث کی کوئی حیثیت نہیں، وہ حدیث نقل کرنے میں ضعیف ہے۔
(ق) شیخ کہتے ہیں کہ حیض کی اقل اور اکثر مدت کی احادیث بیان کی گئی ہیں اور میں نے ان کا ضعف بھی بیان کر دیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحيض / حدیث: 1545
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جدًا
تخریج حدیث «ضعيف جدًا»