السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: المرأة تضع سقطا باب: اس عورت کی عدت کا بیان جس کا حمل (نامکمل) گر گیا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُوَكَّلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ مَاذَا أَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ؟ فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيُكْتَبَانِ ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ ذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيُكْتَبَانِ فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ وَأَثَرُهُ ثُمَّ تُرْفَعُ الصُّحُفُ فَلَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ.سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اس کو نبی ﷺ تک پہنچاتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے کو نطفے پر نگران مقرر کیا جاتا ہے، اس کے بعد جب وہ رحم میں چالیس یا پینتالیس دن تک قرار پکڑتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے: اے میرے رب! کیا یہ بدبخت ہے یا نیک بخت؟ پس اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، پھر لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ بدبخت ہے یا نیک بخت، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! مرد ہو یا عورت ہو؟ پس اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ مرد ہے یا عورت، پھر اس کا عمل اور اس کی موت کا وقت بھی لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا رزق اور اس نے جو اثرات پیچھے چھوڑنے ہیں، یہ بھی لکھ دیا جاتا ہے، پھر صحیفے اٹھا دیے جاتے ہیں اور نہ اس میں کچھ کمی ہوتی ہے اور نہ کچھ زیادتی۔“
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔