السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: المرأة تضع سقطا باب: اس عورت کی عدت کا بیان جس کا حمل (نامکمل) گر گیا ہو۔
حدیث نمبر: 15422
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا حَجَّاجٌ، وَأَبُو النُّعْمَانِ قَالَا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا يَقُولُ أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ فَإِذَا أَرَادَ اللهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهَا قَالَ: يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الْأَجَلُ فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي كَامِلٍ عَنْ حَمَّادٍ.حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے رحم کو فرشتے کے حوالہ کر دیا ہے، وہ کہتا ہے: اے میرے رب! نطفہ ہے، اے میرے رب! لوتھڑا ہے، اے میرے رب! بوٹی ہے۔ پس جب اللہ ارادہ کرتا ہے کہ وہ اس کو پیدا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے وہ فرشتہ کہتا ہے: اے میرے رب! کیا مذکر یا مؤنث؟ کیا بدبخت ہو یا نیک بخت ہو؟ پس اس کا رزق کتنا ہو، اس کی موت کا کیا وقت ہو؟ یہ سب کچھ اس کی ماں کے پیٹ میں ہی لکھ دیا جاتا ہے۔“