حدیث نمبر: 15424
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، نا أَبُو طَاهِرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: " الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ " فَأَتَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ فَحَدَّثَهُ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَالَ كَيْفَ يَشْقَى رَجُلٌ يُغَيَّرُ عَمَلُهُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ أَتَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ⦗٦٩٣⦘ ثِنْتَانِ وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً بَعَثَ اللهُ إِلَيْهَا مَلَكًا فَصَوَّرَهَا وَخَلَقَ سَمْعَهَا وَبَصَرَهَا وَجِلْدَهَا وَلَحْمَهَا وَعَظْمَهَا ثُمَّ قَالَ: يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ اللهُ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَجَلُهُ فَيَقُولُ رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ رِزْقُهُ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ ثُمَّ يَخْرُجُ بِالصَّحِيفَةِ فِي يَدِهِ فَلَا يَزِيدُ عَلَى أَمْرِهِ وَلَا يَنْقُصُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ.
حافظ ثناء اللہ

ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ عامر بن واثلہ نے ان کو حدیث بیان کی کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ سے ہی بدبخت ہے اور نیک بخت وہ ہوتا ہے جس کو اس کے علاوہ نصیحت کی جائے۔ ایک آدمی نبی ﷺ کے صحابہ میں سے آیا، اس کا نام حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ تھا۔ اس نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس قول کو بیان کیا اور کہا کہ کس طرح آدمی بغیر عمل کیے بدبخت ہو سکتا ہے؟ اس کو ایک شخص نے کہا: کیا تو اس پر تعجب کرتا ہے! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جب نطفہ پر بیالیس دن گزر جاتے ہیں تو اس کی طرف اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے، وہ اس کی صورت بناتا ہے، اس کے کان بناتا ہے، اس کی آنکھیں بناتا ہے اور اس کی کھال، اس کی ہڈیاں اور اس کا گوشت بناتا ہے۔ پھر کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟» ”اے میرے رب! مذکر ہو یا مونث؟“ تیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ أَجَلُهُ؟» ”اے میرے رب! اس کی موت کا وقت؟“ تیرا رب فرماتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور فرشتہ لکھ دیتا ہے۔ پھر فرشتہ کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ رِزْقُهُ؟» ”اے میرے رب! اس کا رزق کتنا ہے؟“ تیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے اور فرشتہ (اس کو) لکھ دیتا ہے۔ پھر صحیفہ کو اس کے ہاتھ میں اٹھا دیا جاتا ہے، پس اس معاملے پر نہ کچھ زیادتی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی کمی ہوتی ہے۔“
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15424
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»