السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: المرأة تضع سقطا باب: اس عورت کی عدت کا بیان جس کا حمل (نامکمل) گر گیا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالَا: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي ⦗٦٩٢⦘ بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ تَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ تَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ الْمَلَكَ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ كَتْبِ رِزْقِهِ، وَعَمَلِهِ، وَأَجَلِهِ، وَشَقِيٍّ هُوَ أَمْ سَعِيدٍ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ، مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صادق و مصدوق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری تخلیق کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع کیا جاتا ہے، پھر وہ اسی طرح لوتھڑا بن جاتا ہے، پھر وہ اسی طرح ہڈی اور گوشت بن جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتے ہیں، وہ اس میں اس کی روح کو پھونکتا ہے۔ پھر اسے چار کلمات کا حکم دیا جاتا ہے: اس کے رزق کے لکھنے کا، اس کے عمل کا، اس کی موت کے لکھنے کا اور (یہ کہ) وہ نیک بخت ہوگا یا بدبخت۔ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے! بے شک تمہارا کوئی شخص جہنم والوں کے عمل کرتا ہے اور اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر کتاب سبقت لے جاتی ہے، اس کا خاتمہ اہل جنت کے عمل کے ساتھ کر دیا جاتا ہے اور وہ اس میں داخل ہو جاتا ہے، اور بے شک تمہارا کوئی شخص اہل جنت کے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے، اور اس پر کتاب سبقت لے جاتی ہے اور اس کا خاتمہ اہل جہنم کے عمل کے ساتھ کر دیا جاتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔“
اس کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔