السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: عدة الحامل المطلقة باب: طلاق یافتہ حاملہ عورت کی عدت کا بیان۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الْمُطَلَّقَاتِ: {وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 4].اللہ تبارک و تعالیٰ نے طلاق یافتہ عورتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ ”اور حمل والی عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن دیں۔“ [سورة الطلاق: 4]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي اللَّيْثِ حَدَّثَهُمْ، نا عُبَيْدُ اللهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَاءَتْهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَتْ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَطِيبَ نَفْسِي بِتَطْلِيقَةٍ فَفَعَلَ وَهِيَ حَامِلٌ فَذَهَبَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَجَاءَ وَقَدْ وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ مَا صَنَعَ فَقَالَ: " بَلَغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ فَاخْطُبْهَا إِلَى نَفْسِهَا "، فَقَالَ خَدَعَتْنِي خَدَعَهَا اللهُ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الرَّقِّيِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، وَرُوِيَ فِي مَعْنَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ وہ آئیں اور وہ وضو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: میں پسند کرتی ہوں کہ اپنے آپ کو طلاق کے ساتھ پاک کر لوں، تو انہوں نے طلاق دے دی اور وہ حاملہ تھیں۔ وہ مسجد کی طرف چلے گئے اور جب وہ واپس آئے تو وہ اسے جنم دے چکی تھیں جو ان کے پیٹ میں تھا۔ پس وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور اس معاملے کا ذکر کیا جو ہوا تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کتاب اس کی مدت کو پہنچ گئی ہے“ (یعنی اس کی عدت ختم ہوگئی ہے)۔ انہوں نے کہا: اس نے مجھے دھوکا دیا، اللہ اس کے ساتھ دھوکا کرے۔