السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: عدة من تباعد حيضها باب: اس عورت کی عدت کا بیان جس کا حیض تاخیر کا شکار ہو جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ حِبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَحِيحٌ وَهِيَ تُرْضِعُ ابْنَتَهُ فَمَكَثَتْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا لَا تَحِيضُ يَمْنَعُهَا الرَّضَاعُ أَنْ تَحِيضَ ثُمَّ مَرِضَ حَبَّانُ بَعْدَ أَنْ طَلَّقَهَا سَبْعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ ثَمَانِيَةً فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ امْرَأَتَكَ تُرِيدُ أَنْ تَرِثَ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: احْمِلُونِي إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَحَمَلُوهُ إِلَيْهِ فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ امْرَأَتِهِ وَعِنْدَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ⦗٦٨٩⦘ فَقَالَ لَهُمَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا تَرَيَانِ؟ فَقَالَا: " لَا نَرَى أَنَّهَا تَرِثُهُ إِنْ مَاتَ وَيَرِثُهَا إِنْ مَاتَتْ فَإِنَّهَا لَيْسَتْ مِنَ الْقَوَاعِدِ اللَّاتِي قَدْ يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ وَلَيْسَتْ مِنَ الْأَبْكَارِ اللَّاتِي لَمْ يَبْلُغْنَ الْمَحِيضَ ثُمَّ هِيَ عَلَى عِدَّةِ حَيْضِهَا مَا كَانَ مِنْ قَلِيلٍ أَوْ كَثِيرٍ " فَرَجَعَ حَبَّانُ إِلَى أَهْلِهِ فَأَخَذَ ابْنَتَهُ، فَلَمَّا فَقَدَتِ الرَّضَاعَ حَاضَتْ حَيْضَةً ثُمَّ حَاضَتْ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ تُوُفِّيَ حَبَّانُ قَبْلَ أَنْ تَحِيضَ الثَّالِثَةَ فَاعْتَدَّتْ عِدَّةَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَوَرِثَتْ.عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں ایک شخص کو حبان بن منقذ کہا جاتا تھا، اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی اس حالت میں کہ وہ تندرست تھا اور وہ اس کی بیٹی کو دودھ پلا رہی تھی۔ وہ سترہ مہینے رکی رہی، اس کو حیض نہ آیا اور اس کے حیض کو دودھ پلانے نے روکا ہوا تھا۔ پھر حبان اس کو طلاق دینے کے بعد سترہ یا اٹھارہ مہینے بیمار رہا۔ اس کو کہا گیا: تیری بیوی چاہتی ہے کہ وہ تیری وارث بنے۔ اس نے اپنے گھر والوں کو کہا: مجھے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے چلو، پس انہوں نے اس کو عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اٹھایا۔ اس نے اپنی بیوی کا معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا اور ان کے پاس علی اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما تھے۔ ان دونوں کو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے؟ ان دونوں نے کہا: ”ہمارا خیال ہے کہ اگر یہ فوت ہوجائے تو وہ اس کی وارث بنے گی اور اگر وہ عورت فوت ہوجائے تو وہ اس کا وارث بنے گا، یہ ان میں سے نہیں ہے جو حیض سے ناامید ہوجاتی ہیں اور نہ ہی یہ ان باکرہ میں سے ہے جو حیض کو نہیں پہنچی۔“ پھر وہ اسی عدت پر رہی جو حیض کے اعتبار سے زیادہ ہو یا کم۔ پھر حبان نے اپنے اہل کی طرف رجوع کیا اور اپنی بیٹی کو (رضاعت چھڑانے کے لیے) پکڑا، پھر جب رضاعت ختم ہوئی تو وہ حائضہ ہوئی، پھر وہ دوسری مرتبہ حائضہ ہوئی، پھر حبان اس کے تیسرا حیض آنے سے پہلے فوت ہوگئے۔ پس اس نے وہ عدت گزاری جو عدت خاوند کے فوت ہونے پر ہے اور وہ اس کی وراثت کی حقدار بنی۔