السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: عدة من تباعد حيضها باب: اس عورت کی عدت کا بیان جس کا حیض تاخیر کا شکار ہو جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَنَّهُ قَالَ: " كَانَتْ عِنْدَ جَدِّهِ حَبَّانَ امْرَأَتَانِ لَهُ هَاشِمِيَّةٌ وَأَنْصَارِيَّةٌ فَطَلَّقَ الْأَنْصَارِيَّةَ وَهِيَ تُرْضِعُ فَمَرَّتْ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ هَلَكَ عَنْهَا وَلَمْ تَحِضْ، فَقَالَتْ: أَنَا أَرِثُهُ لَمْ أَحِضْ فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " فَقَضَى لَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمِيرَاثِ " فَلَامَتِ الْهَاشِمِيَّةُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ابْنُ عَمِّكِ هُوَ أَشَارَ إِلَيْنَا بِهَذَا يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ".محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ان کے دادا حبان کے پاس ان کی دو بیویاں تھیں: ایک ہاشمیہ اور دوسری انصاریہ۔ انہوں نے انصاریہ کو طلاق دے دی اور وہ حالتِ رضاعت میں تھی، اس پر سال گزر گیا، پھر وہ فوت ہو گئے اور وہ حائضہ نہ ہوئی تھی۔ اس انصاریہ نے کہا: میں اس کی وارث ہوں، کیونکہ میں حائضہ نہیں ہوئی۔ ان دونوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف جھگڑا پیش کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس (انصاریہ) کے لیے وراثت کا فیصلہ کر دیا۔ ہاشمیہ عورت نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ملامت کی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرے چچا کے بیٹے ہی نے ہمیں اس کا مشورہ دیا تھا، یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے۔