کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس عورت کی عدت کا بیان جس کا حیض تاخیر کا شکار ہو جائے۔
حدیث نمبر: 15409
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَنَّهُ قَالَ: " كَانَتْ عِنْدَ جَدِّهِ حَبَّانَ امْرَأَتَانِ لَهُ هَاشِمِيَّةٌ وَأَنْصَارِيَّةٌ فَطَلَّقَ الْأَنْصَارِيَّةَ وَهِيَ تُرْضِعُ فَمَرَّتْ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ هَلَكَ عَنْهَا وَلَمْ تَحِضْ، فَقَالَتْ: أَنَا أَرِثُهُ لَمْ أَحِضْ فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " فَقَضَى لَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمِيرَاثِ " فَلَامَتِ الْهَاشِمِيَّةُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ابْنُ عَمِّكِ هُوَ أَشَارَ إِلَيْنَا بِهَذَا يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ حبان کے دادا کے پاس ان کی دو بیویاں تھیں: ایک ہاشمیہ اور دوسری انصاریہ۔ انہوں نے انصاریہ کو طلاق دے دی اور وہ حالتِ رضاعت میں تھی، اس پر سال گزر گیا اور وہ حائضہ نہ ہوئی اور وہ فوت ہو گیا۔ اس انصاریہ نے کہا: میں اس کی وارث ہوں، کیونکہ میں حائضہ نہیں ہوئی۔ ان دونوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف جھگڑا پیش کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دونوں کے لیے وراثت کا فیصلہ کر دیا۔ ہاشمیہ عورت نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ملامت کی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تیرے چچا کا بیٹا ہے، وہ اس کے ساتھ ان کی طرف اشارہ کر رہے تھے، یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15409
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15410
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ حِبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَحِيحٌ وَهِيَ تُرْضِعُ ابْنَتَهُ فَمَكَثَتْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا لَا تَحِيضُ يَمْنَعُهَا الرَّضَاعُ أَنْ تَحِيضَ ثُمَّ مَرِضَ حَبَّانُ بَعْدَ أَنْ طَلَّقَهَا سَبْعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ ثَمَانِيَةً فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ امْرَأَتَكَ تُرِيدُ أَنْ تَرِثَ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: احْمِلُونِي إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَحَمَلُوهُ إِلَيْهِ فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ امْرَأَتِهِ وَعِنْدَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ⦗٦٨٩⦘ فَقَالَ لَهُمَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا تَرَيَانِ؟ فَقَالَا: " لَا نَرَى أَنَّهَا تَرِثُهُ إِنْ مَاتَ وَيَرِثُهَا إِنْ مَاتَتْ فَإِنَّهَا لَيْسَتْ مِنَ الْقَوَاعِدِ اللَّاتِي قَدْ يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ وَلَيْسَتْ مِنَ الْأَبْكَارِ اللَّاتِي لَمْ يَبْلُغْنَ الْمَحِيضَ ثُمَّ هِيَ عَلَى عِدَّةِ حَيْضِهَا مَا كَانَ مِنْ قَلِيلٍ أَوْ كَثِيرٍ " فَرَجَعَ حَبَّانُ إِلَى أَهْلِهِ فَأَخَذَ ابْنَتَهُ، فَلَمَّا فَقَدَتِ الرَّضَاعَ حَاضَتْ حَيْضَةً ثُمَّ حَاضَتْ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ تُوُفِّيَ حَبَّانُ قَبْلَ أَنْ تَحِيضَ الثَّالِثَةَ فَاعْتَدَّتْ عِدَّةَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَوَرِثَتْ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں ایک شخص کو حبان بن منقذ کہا جاتا تھا، اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی اس حالت میں کہ وہ تندرست تھا اور وہ اس کی بیٹی کو دودھ پلا رہی تھی۔ وہ سترہ مہینے رکی رہی، اس کو حیض نہ آیا اور اس کے حیض کو دودھ پلانے نے روکا ہوا تھا۔ پھر حبان اس کو طلاق دینے کے بعد سترہ یا اٹھارہ مہینے بیمار رہا۔ اس کو کہا گیا: تیری بیوی چاہتی ہے کہ وہ تیری وارث بنے۔ اس نے اپنے گھر والوں کو کہا: مجھے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے چلو، پس انہوں نے اس کو عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اٹھایا۔ اس نے اپنی بیوی کا معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا اور ان کے پاس علی اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما تھے۔ ان دونوں کو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے؟ ان دونوں نے کہا: ”ہمارا خیال ہے کہ اگر یہ فوت ہوجائے تو وہ اس کی وارث بنے گی اور اگر وہ عورت فوت ہوجائے تو وہ اس کا وارث بنے گا، یہ ان میں سے نہیں ہے جو حیض سے ناامید ہوجاتی ہیں اور نہ ہی یہ ان باکرہ میں سے ہے جو حیض کو نہیں پہنچی۔“ پھر وہ اسی عدت پر رہی جو حیض کے اعتبار سے زیادہ ہو یا کم۔ پھر حبان نے اپنے اہل کی طرف رجوع کیا اور اپنی بیٹی کو (رضاعت چھڑانے کے لیے) پکڑا، پھر جب رضاعت ختم ہوئی تو وہ حائضہ ہوئی، پھر وہ دوسری مرتبہ حائضہ ہوئی، پھر حبان اس کے تیسرا حیض آنے سے پہلے فوت ہوگئے۔ پس اس نے وہ عدت گزاری جو عدت خاوند کے فوت ہونے پر ہے اور وہ اس کی وراثت کی حقدار بنی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15410
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15411
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ أنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، وَالْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ حَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ ارْتَفَعَ حَيْضُهَا سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ مَاتَتْ فَجَاءَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: " حَبَسَ اللهُ عَلَيْكَ مِيرَاثَهَا فَوَرَّثَهُ مِنْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق یا دو طلاقیں دیں، پھر وہ ایک یا دو مرتبہ حائضہ ہوئی، پھر اس کا حیض سترہ یا اٹھارہ ماہ تک بند رہا، پھر وہ فوت ہو گئی، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: اللہ نے اس کی وراثت کو تجھ پر روک لیا ہے اور اسے تیری وراثت کا وارث بنایا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15411
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 15412
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ فَحَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ رَفَعَتْهَا حَيْضَةٌ فَإِنَّهَا تَنْتَظِرُ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ فَإِنْ بَانَ بِهَا حَمْلٌ فَذَاكَ وَإِلَّا اعْتَدَّتْ بَعْدَ التِّسْعَةِ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ حَلَّتْ " فَإِلَى ظَاهِرِ هَذَا كَانَ يَذْهَبُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ ثُمَّ رَجَعَ عَنْهُ فِي الْجَدِيدِ إِلَى قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَحَمَلَ كَلَامَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى كَلَامِ عَبْدِ اللهِ فَقَالَ: قَدْ يَحْتَمِلُ قَوْلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَكُونَ فِي الْمَرْأَةِ قَدْ بَلَغَتِ السِّنَّ الَّتِي مَنْ بَلَغَهَا مِنْ نِسَائِهَا يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ فَلَا يَكُونُ مُخَالِفًا لِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَذَلِكَ وَجْهٌ عِنْدَنَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس عورت کو بھی طلاق دی جائے، پھر وہ حائضہ ہو جائے، وہ ایک حیض یا دو حیض عدت گزارے، پھر اس کا حیض بند ہو جائے اور وہ نو مہینے انتظار کرے، تو اگر اس کا حمل واقع ہو جائے تو یہ ہے، ورنہ وہ عدت نو مہینے گزارے پھر حلال ہو جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15412
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»