حدیث نمبر: 15291
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، وَابْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْوَرَّاقُ، قَالُوا: ثنا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، نا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّنَةُ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلًا عَلَى امْرَأَتِهِ أَيَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ؟ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْبَيِّنَةُ وَإِلَّا حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ "، فَقَالَ هِلَالٌ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، فَنَزَلَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَنَزَلَتِ الْآيَةُ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ} [النور: ٦] فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ} [النور: ٩] قَالَ: فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَجَاءَا فَقَامَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟ " ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ {الْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ} [النور: ٩] قَالُوا لَهَا: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَتَلَكَّأَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ فَمَضَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ "، فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللهِ تَعَالَى لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ " ⦗٦٤٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ

عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی کو نبی ﷺ کے سامنے شریک بن سحماء کے ساتھ الزام لگا دیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”گواہ پیش کرو، ورنہ تیری کمر پر کوڑے لگیں گے۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! جب ہم سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا وہ گواہ ڈھونڈنے شروع کر دے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، گواہ پیش کرنا ہوں گے، بصورت دیگر تیری کمر پر کوڑے برسیں گے۔“ اس پر ہلال نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، بلاشبہ میں سچا ہوں۔ یقیناً اللہ حکم نازل کرے گا جو میری کمر کو کوڑوں سے بچا دے گا، پس جبرائیل نازل ہوئے اور آپ ﷺ پر یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ شُہَدَاءُ اِلَّا اَنفُسُہُمْ﴾ الی ﴿وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ [سورة النور: 6-9] ”اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور اپنے علاوہ کوئی گواہ نہیں پاتے۔۔۔ الی قولہٖ اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا اگر وہ سچوں میں سے ہوا۔“ تو اس کے بعد نبی ﷺ نے دونوں کو بلایا، ہلال نے اپنی صداقت کی گواہی دی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ جانتا ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی ایک توبہ کرنے کے لیے تیار ہے؟“ پھر اس کی بیوی کھڑی ہوئی اور اس نے اپنی صداقت کی گواہی دی۔ جب وہ پانچویں بار گواہی دینے والی تھی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا: پانچویں بار کی گواہی اللہ کے غضب کو واجب کر دے گی، اگر خاوند سچا ہوا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عورت جھجکی اور پیچھے ہٹ گئی، ہم نے محسوس کیا کہ وہ اپنے موقف سے پھر جائے گی لیکن اس نے کہا: میں اپنی قوم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رسوا نہ کروں گی، پھر اس نے گواہی کو مکمل کر دیا اور نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کا خیال رکھنا، اگر اس نے بچہ سرمیلی آنکھوں، بھاری سرینوں اور موٹی پنڈلیوں والا جنا تو یہ شریک بن سحماء کا ہے“ جب اسے بچہ پیدا ہوا تو اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”کتاب اللہ کا حکم نازل نہ ہو چکا ہوتا تو میں اس عورت سے نپٹتا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15291
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 4747»