حدیث نمبر: 15288
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْغُجْدَوَانِيُّ بِبُخَارَى أنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، نا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ قَالَا: نا خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ أَخُو زُهَيْرٍ نا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، نا خَدِيجٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ خَوْلَةَ، أَنَّ زَوْجَهَا دَعَاهَا وَكَانَتْ تُصَلِّي فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي إِنْ أَنَا وَطِئْتُكِ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَلَمْ يَبْلُغِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ، ثُمَّ أَتَتْهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً " فَقَالَ: لَيْسَ عِنْدِي ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ قَالَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ثَلَاثِينَ صَاعًا " قَالَ: لَسْتُ أَمْلِكُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا أَنْ تُعِينَنِي قَالَ: فَأَعَانَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، وَأَعَانَهُ النَّاسُ حَتَّى بَلَغَ ثَلَاثِينَ صَاعًا، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَحَدٌ أَفْقَرُ إليه مِنِّي وَأَهْلِ بَيْتِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ " فَأَخَذَهُ كَذَا رَوَاهُ خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَلَمْ يَقُلْ عَنْ خَوْلَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ ثَلَاثِينَ صَاعًا وَقَالَ: فَأَعَانَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ فَقْرَهُ وَأَنَّهُ أَمَرَهُ بِأَكْلِهِ، وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى أَعَانَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، وَكَذَا قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ وَقَالَ أَبُو يَزِيدَ الْمَدَنِيُّ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِشَطْرِ وَسْقٍ مِنْ شَعِيرٍ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ مُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ مَكَانَ مُدٍّ مِنْ بُرٍّ، فَهَذِهِ رِوَايَاتٌ مُخْتَلِفَةٌ وَأَكْثَرُهَا مَرَاسِيلُ وَقَدْ رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الصِّيَامِ فِي حَدِيثِ الْمُجَامِعِ مِنْ أَوْجُهٍ قَوِيَّةٍ مَا دَلَّ عَلَى مَا قُلْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ

یزید بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خولہ رضی اللہ عنہا کو ان کے خاوند نے آواز دی تو وہ نماز میں مصروف تھیں، جس کی وجہ سے آنے میں دیر ہوئی۔ خاوند نے کہہ دیا: تو میرے لیے والدہ کی مانند ہے، اگر میں نے تیرے ساتھ صحبت کی، تو خولہ رضی اللہ عنہا نے آکر نبی ﷺ کو شکایت کی، لیکن نبی ﷺ کے پاس اس بارے میں کچھ حکم موجود نہ تھا۔ پھر دوسری مرتبہ نبی ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”غلام آزاد کرو۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس موجود نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو ماہ کے روزے رکھو۔“ انہوں نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تیس صاع ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔“ انہوں نے کہا: اگر آپ ﷺ میری مدد کریں وگرنہ میں اس کا بھی مالک نہیں ہوں، تو آپ ﷺ نے پندرہ صاع سے ان کی اعانت فرمائی اور پندرہ صاع لوگوں نے دیے، یہ کل تیس صاع ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو۔“ انہوں نے کہا: میرے اور گھر والوں سے زیادہ کوئی اس کا محتاج نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم خود کھا لو اور اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“ تو انہوں نے لے لیا۔
(ب) اسرائیل رحمہ اللہ، ابو اسحاق رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، لیکن انہوں نے خولہ رضی اللہ عنہا اور تیس صاع کا تذکرہ نہیں کیا، پھر نبی ﷺ نے اس کی پندرہ صاع سے مدد فرمائی۔ اس سے زائد نہ دیا، ان کے فقر کا تذکرہ فرمایا اور کھانے کا حکم دیا۔
(ج) حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے پندرہ صاع جو سے ان کی مدد فرمائی۔
(د) ابو یزید مدنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نصف وسق جو لے کر آئی تھی تو نبی ﷺ نے اسے دو مد جَو کے دیے، گندم کے بدلے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الظهار / حدیث: 15288
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»