کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ ساٹھ مساکین سے کم کو کھانا کھلانا کفایت نہیں کرتا، اور ہر مسکین کو اس کے شہر کی خوراک میں سے ایک مد دیا جائے۔
حدیث نمبر: 15277
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَزِيدَ الرِّيَاحِيُّ، نا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، وَأَبِي سَلَمَةَ أَنَّ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ إِنْ غَشِيَهَا حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا مَضَى النِّصْفُ مِنْ رَمَضَانَ سَمُنَتِ الْمَرْأَةُ وَتَرَبَّعَتْ فَأَعْجَبَتْهُ فَغَشِيَهَا لَيْلًا ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً " فَقَالَ: لَا أَجِدُ فَقَالَ: " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " فَقَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ: " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَ: لَا أَجِدُ قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ صَاعًا فَقَالَ: " تَصَدَّقْ بِهَذَا عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ عَنْ أَبِي عَامِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان اور ابو سلمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے رمضان کے گزرنے تک ظہار کر لیا، جب نصف رمضان گزر گیا اور عورت موٹی تازی اور خوش حال ہو گئی تو سلمہ رضی اللہ عنہ کو اچھی لگی اور وہ رات کے وقت اس پر واقع ہو گئے۔ پھر نبی ﷺ کو آ کر بتا دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک گردن آزاد کرو۔“ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے پاس نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ لو۔“ کہتے ہیں: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔“ سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس نہیں، آپ ﷺ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرہ لایا گیا جس میں ١٥ یا ١٦ صاع کھجور تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کر دو۔“
حدیث نمبر: 15278
وَرَوَاهُ شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ مِكْتَلًا فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، فَقَالَ: " أَطْعِمْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا، وَذَلِكَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ مُدًّا " أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ أنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ نا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ أنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ نا شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں کھجوروں کا ایک ٹوکرہ عطا فرمایا جس میں ٦٠ صاع کھجور تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور ہر مسکین کو ایک صاع دینا۔“
حدیث نمبر: 15279
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَبَانُ، نا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: " يَعْنِي: الْعَرَقَ زِنْبِيلٌ يَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا " ⦗٦٤١⦘.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ، ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ «عَرَق» وہ ٹوکرہ ہوتا ہے جس میں ١٥ صاع کھجور ہو۔
حدیث نمبر: 15280
وَرُوِيَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ صَخْرٍ الْبَيَاضِيَّ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ وَقَالَ: " اذْهَبْ وَأَطْعِمْ هَذَا سِتِّينَ مِسْكِينًا " أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَبِيبٍ نا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحَرْبِيُّ نا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ فَذَكَرَهُ وَهُوَ خَطَأٌ، الْمَشْهُورُ عَنْ يَحْيَى مُرْسَلٌ دُونَ ذِكْرِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سلیمان بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے رمضان کے گزرنے تک ظہار کر لیا، اس نے حدیث کو ذکر کیا ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک ٹوکرہ لایا گیا جس میں ۱۵ صاع کھجوریں تھیں، آپ ﷺ نے اسے دے دیا اور فرمایا: ”جاؤ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا۔“
حدیث نمبر: 15281
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ امْرَأً قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ غَيْرِي، فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي مَخَافَةَ أَنْ أُصِيبَ مِنْهَا شَيْئًا فِي بَعْضِ اللَّيْلِ وَأَتَتَابَعُ فِي ذَلِكَ وَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْزِلَ حَتَّى يُدْرِكَنِيَ الصُّبْحُ، فَبَيْنَمَا هِيَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِحِيَالٍ مِنِّي إِذَا انْكَشَفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي فَقُلْتُ: انْطَلِقُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: لَا وَاللهِ لَا نَذْهَبُ مَعَكَ نَخَافُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ، وَيَقُولُ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي فَقَالَ: " أَنْتَ ذَاكَ؟ " فَقُلْتُ: أَنَا ذَاكَ فَاقْضِ فِيَّ حُكْمَ اللهِ فَإِنِّي صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ قَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً "، فَضَرَبْتُ صَفْحَ عُنُقِ رَقَبَتِي بِيَدِي فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا قَالَ: " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ؟ قَالَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ وَحْشًا مَا نَجِدُ عَشَاءً، قَالَ: " انْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ الصَّدَقَةِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ مِنْهَا وَسْقًا سِتِّينَ مِسْكِينًا وَتَسْتَعِينُ بِسَائِرِهَا عَلَى عِيَالِكَ "، فَأَتَيْتُ قَوْمِي فَقُلْتُ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ ⦗٦٤٢⦘ كَذَا رُوِيَ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سیدنا سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عورتوں سے جتنی صحبت کرتا تھا، میرے علاوہ کوئی اتنی خواہش بھی نہ رکھتا تھا، جب رمضان شروع ہوا تو میں نے (بیوی سے ہم بستری) واقع ہونے کے ڈر سے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، میں کوشش کرتا رہا، لیکن میں اتنی طاقت نہ رکھتا تھا کہ صبح تک الگ رہوں، ایک رات وہ میرے قریب بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ کھل گیا تو میں اس سے ہم بستری کر بیٹھا، صبح کے وقت میں نے اپنی قوم کو بتایا اور کہا: ”میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو۔“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تیرے ساتھ نہ جائیں گے، ہمیں خوف ہے کہ کہیں قرآن ہمارے بارے میں نازل نہ ہو جائے، یا رسول اللہ ﷺ کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جو ہمارے لیے عار کا باعث بن جائے۔ خود جا کر جو کرنا ہے سو کرو۔ میں نے آ کر رسول اللہ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم وہی ہو؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ مجھ پر حد نافذ کریں، میں صبر کرنے والا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک گردن آزاد کرو۔“ تو میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مارا اور عرض کیا: میں اس کے علاوہ کسی کا مالک نہیں ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ سب کچھ تو روزوں ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے خالی پیٹ رات گزاری ہے، ہمارے پاس شام کا کھانا بھی نہ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنو زریق کے صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جاؤ، وہ تمہیں کچھ دے دے گا تو ایک وسق ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور باقی اپنے گھر والوں کو دے دینا۔“ میں اپنی قوم کے پاس آیا تو کہا: میں نے تمہارے پاس تنگی پائی ہے۔
حدیث نمبر: 15282
وَقَدْ أَخْبَرَنِيهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِجَازَةً أَنَّ أَبَا الْحَسَنِ بْنَ صُبَيْحٍ، أَخْبَرَهُمْ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، أنا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " فَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْ إِلَيْكَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَكُلْ بَقِيَّتَهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ "، وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُعْطِي مِنَ الْوَسْقِ سِتِّينَ مِسْكِينًا ثُمَّ يَأْكُلُ بَقِيَّتَهُ يَعْنِي بَقِيَّةَ الْوَسْقِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسحاق اپنی سند سے روایت فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ بنو زریق سے صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جائیں، وہ آپ کو ایک وسق کھجور دے گا تو ساٹھ مسکینوں کو کھلا کر باقی خود کو اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا۔“ یہ دلالت کرتی ہے کہ وسق سے ساٹھ مسکینوں کو دیا گیا، باقی ماندہ سے اس نے خود بھی کھایا۔
حدیث نمبر: 15283
وَيَدُلُّ عَلَيْهِ أَيْضًا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا ابْنُ السَّرْحِ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ بِهَذَا الْخَبَرِ قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا فَقَالَ: " تَصَدَّقْ بِهَذَا "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي وَمِنْ أَهْلِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلْ أَنْتَ وَأَهْلُكَ "، فَهَذِهِ الرِّوَايَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ مُوَافِقَةٌ لِرِوَايَةِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَابْنِ ثَوْبَانَ فِي قِصَّةِ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ فَهِيَ أَوْلَى، وَأَمَّا حَدِيثُ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ فَقَدِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ اس حدیث کو بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس کھجوریں لائی گئیں تو آپ ﷺ نے اسے دے دیں، جو 15 صاع کے قریب تھیں اور فرمایا: ”صدقہ کرو۔“ اس نے کہا: اپنے اور گھر والوں سے زیادہ غریب پر؟ فرمایا: ”تم اسے کھاؤ اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔“
حدیث نمبر: 15284
فَرُوِيَ كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَتْ: ظَاهَرَ مِنِّي زَوْجِي أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكُو إِلَيْهِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَادِلُنِي فِيهِ وَيَقُولُ: " اتَّقِي اللهَ فَإِنَّهُ زَوْجُكِ وَابْنُ عَمِّكِ " فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ {قَدْ ⦗٦٤٣⦘ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [المجادلة: ١] قَالَ: " يُعْتِقُ رَقَبَةً " قَالَتْ: لَا يَجِدُ قَالَ: " فَيَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ قَالَ: " فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قُلْتُ: مَا عِنْدَهُ مِنْ شَيْءٍ يَتَصَدَّقُ بِهِ، قَالَ: " فَإِنِّي سَأُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ " قَالْتْ: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنِّي أُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ قَالَ: " قَدْ أَحْسَنْتِ اذْهَبِي فَأَطْعِمِي بِهَا عَنْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَارْجِعِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ " قَالَ: وَالْعَرَقُ سِتُّونَ صَاعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے خاوند اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ظہار کیا تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی۔ آپ ﷺ نے میرے ساتھ مجادلہ فرمایا اور فرمایا: ”وہ تیرا خاوند اور تیرے چچا کا بیٹا ہے“، میں اسی کیفیت میں تھی کہ قرآن نازل ہوا: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ [سورة المجادلة: 1] ”اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھی۔“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایک غلام آزاد کرے“، خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کے پاس نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے“، خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ بوڑھا شخص ہے، روزوں کی ہمت نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے“۔ اس نے کہا: اس کے پاس صدقہ کے لیے کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ایک «عَرَقٍ» (کھجور کے ٹوکرے) سے اس کی مدد کر دیتا ہوں“۔ میں نے کہا: دوسرا ٹوکرہ میں ادا کر دوں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا، جاؤ اس سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور اپنے خاوند کے پاس واپس چلی جاؤ“۔ راوی کہتے ہیں کہ «عَرَق» ساٹھ صاع کا ٹوکرہ تھا۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایک غلام آزاد کرے“، خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کے پاس نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے“، خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ بوڑھا شخص ہے، روزوں کی ہمت نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے“۔ اس نے کہا: اس کے پاس صدقہ کے لیے کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ایک «عَرَقٍ» (کھجور کے ٹوکرے) سے اس کی مدد کر دیتا ہوں“۔ میں نے کہا: دوسرا ٹوکرہ میں ادا کر دوں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا، جاؤ اس سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور اپنے خاوند کے پاس واپس چلی جاؤ“۔ راوی کہتے ہیں کہ «عَرَق» ساٹھ صاع کا ٹوکرہ تھا۔
حدیث نمبر: 15285
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَالْعَرَقُ مِكْتَلٌ يَسَعُ ثَلَاثِينَ صَاعًا، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق رحمہ اللہ نے اس سند سے نقل کیا ہے کہ ایک عرق ٹوکرے میں ۳۰ صاع کھجور آتی ہے۔
حدیث نمبر: 15286
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، نا أَبُو بَكْرٍ، نا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ وَزِيرٍ الْمِصْرِيِّ حَدَّثَكُمْ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، نا عَطَاءٌ، عَنْ أَوْسٍ أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْطَاهُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: عَطَاءٌ لَمْ يُدْرِكْ أَوْسًا وَهُوَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَدِيمُ الْمَوْتِ وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا اوس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے انہیں ساٹھ مسکینوں کے لیے پندرہ صاع جو غلے کے دیے۔
حدیث نمبر: 15287
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، نا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَذَكَرَ قِصَّةَ ظِهَارِ أَوْسٍ إِلَى أَنْ قَالَ: " فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ " قَالَتْ خُوَيْلَةُ: قُلْتُ: وَأِيُّ الرَّقَبَةِ لَنَا وَاللهِ مَا يَخْدُمُهُ غَيْرِي قَالَ: " فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " قَالَتْ: وَاللهِ لَوْلَا أَنَّهُ يَذْهَبُ يَشْرَبُ فِي الْيَوْمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَذَهَبَ بَصَرُهُ قَالَ: " فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَتْ: فَمِنْ أَيْنَ هِيَ الْأَكْلَةُ إِلَى مِثْلِهَا، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَطْرِ وَسْقٍ ثَلَاثِينَ صَاعًا وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا قَالَ: " لِيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَلْيُرْجِعْكِ " كَذَا رَوَاهُ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرَوَاهُ الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ دُونَ ذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، فَقَالَ⦗٦٤٤⦘ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " فَقَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرٍ يُقَالُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَيُقَالُ عِشْرُونَ صَاعًا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْ هَذَا فَاقْسِمْهُ "، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اوس کے ظہار کا قصہ نقل فرماتے ہیں ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ﴾ [سورة المجادلة: 3] تک۔ خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”میرے علاوہ اس کا خدمت گار کوئی نہیں، غلام موجود نہیں ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ﴾ [سورة المجادلة: 4] ”جو غلام نہ پائے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔“ خویلہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ دن میں وہ تین بار کھاتا پیتا ہے، نظر ختم ہو چکی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا﴾ [سورة المجادلة: 4] ”جو طاقت نہ رکھے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔“ خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اس جیسے کے پاس اتنا کھانا کہاں؟“ تو نبی ﷺ نے نصف وسق منگوایا اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ساٹھ مسکین کو کھلائے اور رجوع کرلے۔“
(ب) حکم بن ابان حضرت عکرمہ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کیے بغیر نقل فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلائے۔“ اس نے کہا: ”میرے پاس موجود نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: نبی ﷺ کے پاس کھجوریں لائی گئیں۔ غالباً 15 صاع یا 20 صاع تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لے کر تقسیم کر دو۔“ تو اس شخص نے کہا: ”پہاڑ کے ان دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ کھائیں اور اپنے گھر والوں کو کھلائیں۔“
(ب) حکم بن ابان حضرت عکرمہ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کیے بغیر نقل فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلائے۔“ اس نے کہا: ”میرے پاس موجود نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: نبی ﷺ کے پاس کھجوریں لائی گئیں۔ غالباً 15 صاع یا 20 صاع تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لے کر تقسیم کر دو۔“ تو اس شخص نے کہا: ”پہاڑ کے ان دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ کھائیں اور اپنے گھر والوں کو کھلائیں۔“
حدیث نمبر: 15288
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْغُجْدَوَانِيُّ بِبُخَارَى أنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، نا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ قَالَا: نا خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ أَخُو زُهَيْرٍ نا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، نا خَدِيجٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ خَوْلَةَ، أَنَّ زَوْجَهَا دَعَاهَا وَكَانَتْ تُصَلِّي فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي إِنْ أَنَا وَطِئْتُكِ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَلَمْ يَبْلُغِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ، ثُمَّ أَتَتْهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً " فَقَالَ: لَيْسَ عِنْدِي ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ قَالَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ثَلَاثِينَ صَاعًا " قَالَ: لَسْتُ أَمْلِكُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا أَنْ تُعِينَنِي قَالَ: فَأَعَانَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، وَأَعَانَهُ النَّاسُ حَتَّى بَلَغَ ثَلَاثِينَ صَاعًا، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَحَدٌ أَفْقَرُ إليه مِنِّي وَأَهْلِ بَيْتِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ " فَأَخَذَهُ كَذَا رَوَاهُ خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَلَمْ يَقُلْ عَنْ خَوْلَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ ثَلَاثِينَ صَاعًا وَقَالَ: فَأَعَانَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ فَقْرَهُ وَأَنَّهُ أَمَرَهُ بِأَكْلِهِ، وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى أَعَانَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، وَكَذَا قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ وَقَالَ أَبُو يَزِيدَ الْمَدَنِيُّ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِشَطْرِ وَسْقٍ مِنْ شَعِيرٍ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ مُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ مَكَانَ مُدٍّ مِنْ بُرٍّ، فَهَذِهِ رِوَايَاتٌ مُخْتَلِفَةٌ وَأَكْثَرُهَا مَرَاسِيلُ وَقَدْ رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الصِّيَامِ فِي حَدِيثِ الْمُجَامِعِ مِنْ أَوْجُهٍ قَوِيَّةٍ مَا دَلَّ عَلَى مَا قُلْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خولہ رضی اللہ عنہا کو ان کے خاوند نے آواز دی تو وہ نماز میں مصروف تھیں، جس کی وجہ سے آنے میں دیر ہوئی۔ خاوند نے کہہ دیا: تو میرے لیے والدہ کی مانند ہے، اگر میں نے تیرے ساتھ صحبت کی، تو خولہ رضی اللہ عنہا نے آکر نبی ﷺ کو شکایت کی، لیکن نبی ﷺ کے پاس اس بارے میں کچھ حکم موجود نہ تھا۔ پھر دوسری مرتبہ نبی ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”غلام آزاد کرو۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس موجود نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو ماہ کے روزے رکھو۔“ انہوں نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تیس صاع ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔“ انہوں نے کہا: اگر آپ ﷺ میری مدد کریں وگرنہ میں اس کا بھی مالک نہیں ہوں، تو آپ ﷺ نے پندرہ صاع سے ان کی اعانت فرمائی اور پندرہ صاع لوگوں نے دیے، یہ کل تیس صاع ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو۔“ انہوں نے کہا: میرے اور گھر والوں سے زیادہ کوئی اس کا محتاج نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم خود کھا لو اور اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“ تو انہوں نے لے لیا۔
(ب) اسرائیل رحمہ اللہ، ابو اسحاق رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، لیکن انہوں نے خولہ رضی اللہ عنہا اور تیس صاع کا تذکرہ نہیں کیا، پھر نبی ﷺ نے اس کی پندرہ صاع سے مدد فرمائی۔ اس سے زائد نہ دیا، ان کے فقر کا تذکرہ فرمایا اور کھانے کا حکم دیا۔
(ج) حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے پندرہ صاع جو سے ان کی مدد فرمائی۔
(د) ابو یزید مدنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نصف وسق جو لے کر آئی تھی تو نبی ﷺ نے اسے دو مد جَو کے دیے، گندم کے بدلے۔
(ب) اسرائیل رحمہ اللہ، ابو اسحاق رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، لیکن انہوں نے خولہ رضی اللہ عنہا اور تیس صاع کا تذکرہ نہیں کیا، پھر نبی ﷺ نے اس کی پندرہ صاع سے مدد فرمائی۔ اس سے زائد نہ دیا، ان کے فقر کا تذکرہ فرمایا اور کھانے کا حکم دیا۔
(ج) حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے پندرہ صاع جو سے ان کی مدد فرمائی۔
(د) ابو یزید مدنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نصف وسق جو لے کر آئی تھی تو نبی ﷺ نے اسے دو مد جَو کے دیے، گندم کے بدلے۔
حدیث نمبر: 15289
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: أَنْبَأَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ رَوْحٍ الدِّمَشْقِيَّ، حَدَّثَهُمْ نا الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْجُوعِيُّ، نا مَسْرُوقُ بْنُ صَدَقَةَ، عَنِ ⦗٦٤٥⦘ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكْتُ قَالَ: " وَيْحَكَ وَمَا ذَاكَ؟ " قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً " قَالَ: مَا أَجِدُهَا قَالَ: " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " قَالَ: مَا أَسْتَطِيعُ قَالَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَ: مَا أَجِدُ قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ: " خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ " قَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي، فَوَاللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنْ أَهْلِي قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ: " خُذْهُ وَاسْتَغْفِرِ اللهَ وَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ دُحَيْمٌ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: میں ہلاک ہو گیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تجھ پر افسوس! کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا؟“ اس نے کہا: میں ماہ رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک غلام آزاد کر۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔“ اس شخص نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتا، فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا، تو نبی ﷺ کے پاس ١٥ صاع کھجور کا ایک ٹوکرہ لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لے جا کر صدقہ کر دو۔“ اس نے کہا: اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ اللہ کی قسم! مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے، تو ہنسنے کی وجہ سے نبی ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لو اور اللہ سے استغفار کرو اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔“ [حسن لغیرہ ]
حدیث نمبر: 15290
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ قَالَ: " حَرِّرْ رَقَبَةً " قَالَ: لَا أَجِدُ قَالَ: " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ: " فَتَصَدَّقْ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ يَكُونُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ يَكُونُ سِتِّينَ رَبْعًا فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَقَالَ لَهُ: " أَطْعِمْ هَذَا سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا، فَقَالَ لَهُ: " اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " فِي هَذَا الْمُرْسَلِ تَأْكِيدٌ لِلرِّوَايَةِ الْمَوْصُولَةِ، وَهَذَا أَوْلَى مِنْ رِوَايَةِ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ بِالشَّكِّ فِي خَمْسَةَ عَشَرَ أَوْ عِشْرِينَ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ خَمْسَةَ عَشَرَ بِلَا شَكٍّ، وَسَيُرْوَى إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِ الْأَيْمَانِ الْآثَارُ عَنِ الصَّحَابَةِ فِي جَوَازِ التَّصْدِقِ بِمُدٍّ عَلَى كُلِّ مِسْكِينٍ وَاللهُ الْمُوَفِّقُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں ماہ رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”گردن آزاد کر۔“ اس نے کہا: وہ میرے پاس نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔“ اس نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کر۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا، پھر نبی ﷺ کے پاس 15 صاع کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا، آپ ﷺ نے اس کو دے دیا اور فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! پہاڑ کے دو کناروں کے درمیان میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“
اس مرسل روایت میں مرفوع روایات کی تائید ہے، لیکن عطاء خراسانی، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے جو نقل فرماتے ہیں، اس میں 15 صاع یا 20 صاع نقل کرنے میں شک ہے۔
اس مرسل روایت میں مرفوع روایات کی تائید ہے، لیکن عطاء خراسانی، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے جو نقل فرماتے ہیں، اس میں 15 صاع یا 20 صاع نقل کرنے میں شک ہے۔