السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الظهار— ظہار کا بیان
باب: لا يجزي أن يطعم أقل من ستين مسكينا كل مسكين مدا من طعام بلده باب: اس بیان میں کہ ساٹھ مساکین سے کم کو کھانا کھلانا کفایت نہیں کرتا، اور ہر مسکین کو اس کے شہر کی خوراک میں سے ایک مد دیا جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: أَنْبَأَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ رَوْحٍ الدِّمَشْقِيَّ، حَدَّثَهُمْ نا الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْجُوعِيُّ، نا مَسْرُوقُ بْنُ صَدَقَةَ، عَنِ ⦗٦٤٥⦘ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكْتُ قَالَ: " وَيْحَكَ وَمَا ذَاكَ؟ " قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً " قَالَ: مَا أَجِدُهَا قَالَ: " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " قَالَ: مَا أَسْتَطِيعُ قَالَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَ: مَا أَجِدُ قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ: " خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ " قَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي، فَوَاللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنْ أَهْلِي قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ: " خُذْهُ وَاسْتَغْفِرِ اللهَ وَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ دُحَيْمٌ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ.حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: میں ہلاک ہو گیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تجھ پر افسوس! کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا؟“ اس نے کہا: میں ماہ رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک غلام آزاد کر۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔“ اس شخص نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتا، فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا، تو نبی ﷺ کے پاس ١٥ صاع کھجور کا ایک ٹوکرہ لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لے جا کر صدقہ کر دو۔“ اس نے کہا: اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ اللہ کی قسم! مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے، تو ہنسنے کی وجہ سے نبی ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لو اور اللہ سے استغفار کرو اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔“ [حسن لغیرہ ]