حدیث نمبر: 15287
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، نا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَذَكَرَ قِصَّةَ ظِهَارِ أَوْسٍ إِلَى أَنْ قَالَ: " فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ " قَالَتْ خُوَيْلَةُ: قُلْتُ: وَأِيُّ الرَّقَبَةِ لَنَا وَاللهِ مَا يَخْدُمُهُ غَيْرِي قَالَ: " فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " قَالَتْ: وَاللهِ لَوْلَا أَنَّهُ يَذْهَبُ يَشْرَبُ فِي الْيَوْمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَذَهَبَ بَصَرُهُ قَالَ: " فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَتْ: فَمِنْ أَيْنَ هِيَ الْأَكْلَةُ إِلَى مِثْلِهَا، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَطْرِ وَسْقٍ ثَلَاثِينَ صَاعًا وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا قَالَ: " لِيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَلْيُرْجِعْكِ " كَذَا رَوَاهُ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرَوَاهُ الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ دُونَ ذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، فَقَالَ⦗٦٤٤⦘ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " فَقَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرٍ يُقَالُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَيُقَالُ عِشْرُونَ صَاعًا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْ هَذَا فَاقْسِمْهُ "، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ ".
حافظ ثناء اللہ

عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اوس کے ظہار کا قصہ نقل فرماتے ہیں ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ﴾ [سورة المجادلة: 3] تک۔ خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”میرے علاوہ اس کا خدمت گار کوئی نہیں، غلام موجود نہیں ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ﴾ [سورة المجادلة: 4] ”جو غلام نہ پائے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔“ خویلہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ دن میں وہ تین بار کھاتا پیتا ہے، نظر ختم ہو چکی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا﴾ [سورة المجادلة: 4] ”جو طاقت نہ رکھے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔“ خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اس جیسے کے پاس اتنا کھانا کہاں؟“ تو نبی ﷺ نے نصف وسق منگوایا اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ساٹھ مسکین کو کھلائے اور رجوع کرلے۔“
(ب) حکم بن ابان حضرت عکرمہ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کیے بغیر نقل فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلائے۔“ اس نے کہا: ”میرے پاس موجود نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: نبی ﷺ کے پاس کھجوریں لائی گئیں۔ غالباً 15 صاع یا 20 صاع تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لے کر تقسیم کر دو۔“ تو اس شخص نے کہا: ”پہاڑ کے ان دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ کھائیں اور اپنے گھر والوں کو کھلائیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الظهار / حدیث: 15287
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم برقم 15245»