السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإيلاء— ایلاء کا بیان
باب: من قال: يوقف المولي بعد تربص أربعة أشهر فإن فاء وإلا طلق باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ایلاء کرنے والے کو چار ماہ کے انتظار کے بعد روکا جائے گا، پس یا تو وہ رجوع کر لے ورنہ طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 15220
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ فِي الْإِيلَاءِ: " لَا شَيْءَ وَإِنْ مَضَتْ سَنَةٌ فَإِمَّا أَنْ يُفِيءَ وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن قاسم بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایلا کرنے والے کے بارے میں فرماتی تھیں: اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں اگرچہ سال بھی گزر جائے، یا تو وہ رجوع کرے یا طلاق دے۔