حدیث نمبر: 15219
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِذَا ذُكِرَ مَا الرَّجُلُ يَحْلِفُ أَنْ لَا يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ فَيَدَعَهَا خَمْسَةَ أَشْهُرٍ " لَا تَرَى ذَلِكَ شَيْئًا حَتَّى يُوقَفَ " وَتَقُولُ: كَيْفَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ}.
حافظ ثناء اللہ

قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جب ایسے شخص کا تذکرہ ہوا جس نے اپنی بیوی کے پاس نہ آنے کی قسم کھائی، اس کو پانچ ماہ چھوڑے رکھا تو وہ اس کے بارے میں کچھ بھی خیال نہ فرماتی تھیں، یہاں تک کہ اس کو کھڑا کیا جائے اور وہ فرماتی تھیں کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] ”اچھائی سے روکنا یا احسان کر کے چھوڑ دینا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإيلاء / حدیث: 15219
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»