السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإيلاء— ایلاء کا بیان
باب: من قال: يوقف المولي بعد تربص أربعة أشهر فإن فاء وإلا طلق باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ایلاء کرنے والے کو چار ماہ کے انتظار کے بعد روکا جائے گا، پس یا تو وہ رجوع کر لے ورنہ طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 15209
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُؤْلِي قَالُوا: " لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَيُوقَفُ فَإِنْ فَاءَ وَإِلَّا طَلَّقَ ".حافظ ثناء اللہ
سہیل بن ابی صالح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ۱۲ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایلا کرنے والے شخص کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے، لیکن جب چار ماہ گزر جائیں تو ایلا کرنے والے کو کھڑا کیا جائے گا، اگر رجوع کرے تو درست وگرنہ طلاق دے۔