حدیث نمبر: 15207
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: أَدْرَكْتُ بِضْعَةَ عَشَرَ مِنَ الصَّحَابَةِ أَيْ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَقُولُ: " يُوقَفُ الْمُولِي " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَأَقَلُّ بِضْعَةَ عَشَرَ أَنْ يَكُونُوا ثَلَاثَةَ عَشَرَ وَهُمْ يَقُولُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ ".
حافظ ثناء اللہ

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے دس سے زائد صحابہ رضی اللہ عنہم کو پایا جو یہ کہتے تھے کہ ایلا کرنے والے کو قاضی کے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «بِضْعَةَ عَشَرَ» کا کم سے کم مصداق تیرہ ہے اور وہ کہتے ہیں: یہ انصار میں سے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإيلاء / حدیث: 15207
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»