السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما يكره من ذلك باب: اس (طرح کے الفاظ کہنے) کی کراہت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا أَبُو مُحَمَّدٍ ⦗٦٠٢⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يُرَاجِعُ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ لَيْسَ لِلطَّلَاقِ وَقْتٌ حَتَّى طَلَّقَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ امْرَأَتَهُ لِسُوءِ عِشْرَةٍ كَانَتْ بَيْنَهُمَا فَقَالَ: لَأَدَعَنَّكِ لَا أَيِّمًا وَلَا ذَاتَ زَوْجٍ، فَجَعَلَ يُطَلِّقُهَا حَتَّى إِذَا دَنَا خُرُوجُهَا مِنَ الْعِدَّةِ رَاجَعَهَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ كَمَا أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] فَوَقَّتَ لَهُمُ الطَّلَاقَ ثَلَاثًا رَاجَعَهَا فِي الْوَاحِدَةِ وَفِي الثِّنْتَيْنِ وَلَيْسَ لَهُ فِي الثَّلَاثَةِ رَجْعَةٌ " فَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللهَ} [الطلاق: ١] إِلَى قَوْلِهِ: {بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [النساء: ١٩] وَحَدِيثُ رُكَانَةَ فِي الرَّجْعِيَّةِ قَدْ مَضَى ذِكْرُهُ فِي كِتَابِ الطَّلَاقِ.ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد عدت کے درمیان ہی رجوع کر لیتا ہے تو یہ طلاق کا وقت نہیں ہے، ایک انصاری شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی، جن کے درمیان رہن سہن اچھا نہ تھا۔ اس نے کہا: نہ تو بیوہ کروں گا اور نہ ہی خاوند والی چھوڑوں گا۔ وہ اس کو طلاق دیتا، جب عدت ختم ہونے کے قریب ہوتی تو رجوع کر لیتا، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] کہ ”طلاق دو مرتبہ ہے، پھر اچھائی سے روکنا یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔“ تین طلاق ان کے لیے مقرر کر دیں، ایک یا دو کے بعد رجوع ہے، تیسری کے بعد رجوع درست نہیں ہے۔ اللہ کا فرمان: ﴿إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ ﴿بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے ایام میں دو اور عدت کو شمار کرو اور اللہ سے ڈر جاؤ۔“ اور رکانہ کی حدیث رجوع کے بارے میں پہلے گزر چکی ہے۔