السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما يكره من ذلك باب: اس (طرح کے الفاظ کہنے) کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 15150
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ اللَّبَّادُ، نا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ، نا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، وَأَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ التَّفْسِيرَ إِلَى قَوْلِهِ: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ قَالَ: " وَهُوَ الْمِيقَاتُ الَّذِي يَكُونُ عَلَيْهَا فِيهِ الرَّجْعَةُ فَإِذَا طَلَّقَ وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَإِمَّا أَنْ يُمْسِكَ وَيُرَاجِعَ بِمَعْرُوفٍ، وَإِمَّا يَسْكُتَ عَنْهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَتَكُونَ أَحَقَّ بِنَفْسِهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس قول ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ [سورة البقرة: 229] کی تفسیر بیان کرتے ہیں: یہ وہ وقت ہے جس میں عورت سے رجوع کیا جا سکتا ہے، جب ایک یا دو طلاقیں دے تو یا وہ اسے روک لے اور اچھائی کے ساتھ رجوع کر لے، یا اس سے خاموش رہے کہ اس کی عدت ختم ہو جائے تو عورت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے۔ [حسن]