کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس (طرح کے الفاظ کہنے) کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 15147
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا} [البقرة: ٢٢٨] يُقَالُ: " إِصْلَاحُ الطَّلَاقِ بِالرَّجْعَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے قول ﴿إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا﴾ [سورة البقرة: 228] ”اگر وہ دونوں اصلاح کا ارادہ کریں۔“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ طلاق کی اصلاح رجوع ہے۔ [صحیح]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15147
حدیث نمبر: 15148
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا} [البقرة: ٢٢٨] قَالَ: يَقُولُ: " إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ تَطْلِيقَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ وَهِيَ حَامِلٌ فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا مَا لَمْ تَضَعْ وَلَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَكْتُمَ حَمْلَهَا وَهُوَ قَوْلُهُ: {وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ} [البقرة: ٢٢٨].
حافظ ثناء اللہ
علی بن ابی طلحہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا﴾ [سورة البقرة: 228] ”اور ان عورتوں کے خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگر وہ اصلاح کا ارادہ رکھیں۔“ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ جب خاوند اپنی حاملہ بیوی کو طلاق دے دے ایک یا دو تو وہ رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک وہ وضع حمل نہ کرے، اور عورت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے حمل کو چھپائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ﴾ [سورة البقرة: 228] ”عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا فرمایا ہے اس کو چھپائیں۔“ [ضعیف]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15148
حدیث نمبر: 15149
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا آدَمُ، نا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ} [البقرة: ٢٢٨] " يَعْنِي فِي الْعِدَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ﴾ [سورة البقرة: 228] کے متعلق فرماتے ہیں کہ مراد عدت کے ایام میں ہے۔ [حسن]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15149
حدیث نمبر: 15150
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ اللَّبَّادُ، نا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ، نا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، وَأَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ التَّفْسِيرَ إِلَى قَوْلِهِ: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ قَالَ: " وَهُوَ الْمِيقَاتُ الَّذِي يَكُونُ عَلَيْهَا فِيهِ الرَّجْعَةُ فَإِذَا طَلَّقَ وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَإِمَّا أَنْ يُمْسِكَ وَيُرَاجِعَ بِمَعْرُوفٍ، وَإِمَّا يَسْكُتَ عَنْهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَتَكُونَ أَحَقَّ بِنَفْسِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس قول ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ [سورة البقرة: 229] کی تفسیر بیان کرتے ہیں: یہ وہ وقت ہے جس میں عورت سے رجوع کیا جا سکتا ہے، جب ایک یا دو طلاقیں دے تو یا وہ اسے روک لے اور اچھائی کے ساتھ رجوع کر لے، یا اس سے خاموش رہے کہ اس کی عدت ختم ہو جائے تو عورت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے۔ [حسن]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15150
حدیث نمبر: 15151
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا أَبُو مُحَمَّدٍ ⦗٦٠٢⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يُرَاجِعُ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ لَيْسَ لِلطَّلَاقِ وَقْتٌ حَتَّى طَلَّقَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ امْرَأَتَهُ لِسُوءِ عِشْرَةٍ كَانَتْ بَيْنَهُمَا فَقَالَ: لَأَدَعَنَّكِ لَا أَيِّمًا وَلَا ذَاتَ زَوْجٍ، فَجَعَلَ يُطَلِّقُهَا حَتَّى إِذَا دَنَا خُرُوجُهَا مِنَ الْعِدَّةِ رَاجَعَهَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ كَمَا أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] فَوَقَّتَ لَهُمُ الطَّلَاقَ ثَلَاثًا رَاجَعَهَا فِي الْوَاحِدَةِ وَفِي الثِّنْتَيْنِ وَلَيْسَ لَهُ فِي الثَّلَاثَةِ رَجْعَةٌ " فَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللهَ} [الطلاق: ١] إِلَى قَوْلِهِ: {بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [النساء: ١٩] وَحَدِيثُ رُكَانَةَ فِي الرَّجْعِيَّةِ قَدْ مَضَى ذِكْرُهُ فِي كِتَابِ الطَّلَاقِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد عدت کے درمیان ہی رجوع کر لیتا ہے تو یہ طلاق کا وقت نہیں ہے، ایک انصاری شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی، جن کے درمیان رہن سہن اچھا نہ تھا۔ اس نے کہا: نہ تو بیوہ کروں گا اور نہ ہی خاوند والی چھوڑوں گا۔ وہ اس کو طلاق دیتا، جب عدت ختم ہونے کے قریب ہوتی تو رجوع کر لیتا، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] کہ ”طلاق دو مرتبہ ہے، پھر اچھائی سے روکنا یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔“ تین طلاق ان کے لیے مقرر کر دیں، ایک یا دو کے بعد رجوع ہے، تیسری کے بعد رجوع درست نہیں ہے۔ اللہ کا فرمان: ﴿إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ﴾ إِلَى قَوْلِهِ ﴿بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے ایام میں دو اور عدت کو شمار کرو اور اللہ سے ڈر جاؤ۔“ اور رکانہ کی حدیث رجوع کے بارے میں پہلے گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15151
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 15152
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ قَالَا: نا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، نا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا قَالَ: وَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَقُولُ: أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، وَأَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ عَصَيْتَ اللهَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ وَبَانَتْ مِنْكَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے سوال کیا، آپ ﷺ نے رجوع کا حکم فرمایا اور فرمایا: ”پھر دوسرے حیض تک مہلت دے، پھر پاک ہونے تک مہلت دے کر جماع سے پہلے طلاق دے دے۔“ اور فرمایا: ”یہ ہے وہ وقت جس میں عورتوں کو طلاق دینے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب بھی حالتِ حیض میں عورت کو دی گئی طلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرماتے: ”اگر ایک یا دو طلاقیں دی ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے اس کو رجوع کا حکم فرمایا، پھر دوسرے حیض تک مہلت دے کر طہر میں بغیر جماع کیے طلاق دے دینا اور اگر تو نے تین طلاقیں دے دی ہیں تو تو نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ہے جو اس نے عورتوں کے متعلق دیا ہے اور عورت تجھ سے جدا ہوگئی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15152
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15153
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْمِصْرِيُّ، بِمَكَّةَ نا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ قَالَا: أنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا طَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَفْصَةَ " أُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَرَاجَعَهَا " وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ قَالَ: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی تو آپ ﷺ کو رجوع کرنے کا حکم دیا گیا، تو آپ ﷺ نے رجوع کر لیا۔
(ب) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی تو آپ ﷺ کو رجوع کرنے کا حکم دیا گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15153
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»