حدیث نمبر: 15124
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَوْلُ كَثِيرٍ مِنْ أَهْلِ الْفُتْيَا أَنَّهَا تَرِثُهُ فِي الْعِدَّةِ، وَقَوْلُ بَعْضِ أَصْحَابِنَا أَنَّهَا تَرِثُهُ وَإِنْ مَضَتِ الْعِدَّةُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: وَإِنْ نَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ وَقَالَ غَيْرُهُ تَرِثُهُ مَا امْتَنَعَتْ مِنَ الْأَزْوَاجِ وَفِي قَوْلِ بَعْضُهُمْ لَا تَرِثُ الْمَبْتُوتَةُ وَهَذَا مِمَّا اسْتُخِيرَ اللهُ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اہلِ فتویٰ میں سے بہت سے لوگوں کا قول یہ ہے کہ وہ (مریض کی طلاق یافتہ بیوی) عدت کے دوران اس کی وارث ہوگی، اور ہمارے بعض اصحاب کا قول یہ ہے کہ وہ اس کی وارث ہوگی اگرچہ عدت گزر چکی ہو، اور ان میں سے بعض نے کہا: اگرچہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کر چکی ہو، اور ان کے علاوہ دوسروں نے کہا: جب تک وہ (دوسرے) شوہروں سے (نکاح کرنے سے) رکی رہے وہ اس کی وارث ہوگی، اور بعض کے قول میں طلاقِ بائن والی عورت وارث نہیں ہوگی، اور یہ ان مسائل میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کیا گیا ہے۔“

أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي، يُطَلِّقُ الْمَرْأَةَ فَيَبُتُّهَا ثُمَّ يَمُوتُ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: طَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تُمَاضِرَ بِنْتَ الْأَصْبَغِ الْكَلْبِيَّةَ فَبَتَّهَا ثُمَّ مَاتَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: " وَأَمَّا أَنَا فَلَا أَرَى أَنْ تَرِثَ مَبْتُوتَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ

ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی، جس کے پاس اس نے رات گزاری تھی، پھر وہ شخص فوت ہو گیا اور وہ عورت عدت میں تھی، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے تماضر بنت اصبغ کلبیہ رضی اللہ عنہا کو رات گزارنے کے بعد طلاق دی تو وہ فوت ہو گئے اور یہ عدت میں تھی، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو وارث بنایا تھا۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک رات گزارنے والی وارث نہ ہوگی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15124
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»