السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الاستثناء في الطلاق، والعتق، والنذور كهو في الأيمان لا يخالفها باب: اس بیان میں کہ طلاق، غلام آزاد کرنے اور نذروں میں استثناء ویسا ہی ہے جیسا قسموں میں ہے، یہ ان کے خلاف نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَاه أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْغَافِقِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدِ بْنِ نُوحٍ، نا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدِ بْنِ شَدَّادٍ الْكَعْبِيُّ، نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللهُ أَوْ غُلَامِهِ أَنْتَ حُرٌّ إِنْ شَاءَ اللهُ أَوْ عَلَيْهِ الْمَشْيُ إِلَى بَيْتِ اللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَهَذَا الْحَدِيثُ بِإِسْنَادِهِ مُنْكَرٌ لَيْسَ يَرْوِيهِ إِلَّا إِسْحَاقُ الْكَعْبِيُّ قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ عَنِ الْجَارُودِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ مَرْفُوعًا فِي الطَّلَاقِ وَحْدَهُ وَهُوَ أَيْضًا ضَعِيفٌ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كِفَايَةٌ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.عطاء حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا: تجھے طلاق ہے «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ یا اپنے غلام سے کہا کہ تو آزاد ہے «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ یا وہ پیدل چل کر بیت اللہ جائے گا «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ تو اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے۔“
ابو احمد (ابن عدی) فرماتے ہیں: یہ حدیث اپنی سند کے ساتھ منکر ہے، اسے صرف اسحاق کعبی ہی روایت کرتا ہے۔ شیخ (امام بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: یہ جارود بن یزید سے، وہ بہز بن حکیم سے، وہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے صرف طلاق کے بارے میں مرفوعاً بھی مروی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کافی ہے، وباللہ التوفیق۔