کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: مرض الموت میں طلاقِ بائن پانے والی عورت کی وراثت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
❮
❯
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَوْلُ كَثِيرٍ مِنْ أَهْلِ الْفُتْيَا أَنَّهَا تَرِثُهُ فِي الْعِدَّةِ، وَقَوْلُ بَعْضِ أَصْحَابِنَا أَنَّهَا تَرِثُهُ وَإِنْ مَضَتِ الْعِدَّةُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: وَإِنْ نَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ وَقَالَ غَيْرُهُ تَرِثُهُ مَا امْتَنَعَتْ مِنَ الْأَزْوَاجِ وَفِي قَوْلِ بَعْضُهُمْ لَا تَرِثُ الْمَبْتُوتَةُ وَهَذَا مِمَّا اسْتُخِيرَ اللهُ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اہلِ فتویٰ میں سے بہت سے لوگوں کا قول یہ ہے کہ وہ (مریض کی طلاق یافتہ بیوی) عدت کے دوران اس کی وارث ہوگی، اور ہمارے بعض اصحاب کا قول یہ ہے کہ وہ اس کی وارث ہوگی اگرچہ عدت گزر چکی ہو، اور ان میں سے بعض نے کہا: اگرچہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کر چکی ہو، اور ان کے علاوہ دوسروں نے کہا: جب تک وہ (دوسرے) شوہروں سے (نکاح کرنے سے) رکی رہے وہ اس کی وارث ہوگی، اور بعض کے قول میں طلاقِ بائن والی عورت وارث نہیں ہوگی، اور یہ ان مسائل میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15124
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي، يُطَلِّقُ الْمَرْأَةَ فَيَبُتُّهَا ثُمَّ يَمُوتُ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: طَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تُمَاضِرَ بِنْتَ الْأَصْبَغِ الْكَلْبِيَّةَ فَبَتَّهَا ثُمَّ مَاتَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: " وَأَمَّا أَنَا فَلَا أَرَى أَنْ تَرِثَ مَبْتُوتَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ (قطعی طلاق) دی، پھر وہ شخص فوت ہو گیا اور وہ عورت عدت میں تھی، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے تماضر بنت اصبغ کلبیہ رضی اللہ عنہا کو طلاقِ بتہ دی تو وہ فوت ہو گئے اور یہ عدت میں تھی، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو وارث بنایا تھا۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک طلاقِ بتہ والی عورت وارث نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15124
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي مَرَضِهِ فَبَتَّهَا قَالَ: " أَمَّا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَرَّثَهَا، وَأَمَّا أَنَا فَلَا أَرَى أَنْ أُوَرِّثَهَا بِبَيْنُونَتِهِ إِيَّاهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جس نے اپنی بیوی کو مرض الموت میں طلاقِ بتہ (قطعی طلاق) دے دی، انہوں نے فرمایا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کو وارث بنایا تھا لیکن میں اس کے قطعی طور پر جدا کر دینے کی وجہ سے اسے وارث نہیں بناتا۔ [صحیح]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15125
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ⦗٥٩٤⦘ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: وَكَانَ أَعْلَمَهُمْ بِذَلِكَ وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ وَهُوَ مَرِيضٌ " فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهُ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دے دی مرض الموت میں، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عدت گزر جانے کے بعد اسے وارث بنایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15126
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: حَدِيثُ ابْنِ الزُّبَيْرِ مُتَّصِلٌ وَهُوَ يَقُولُ: وَرَّثَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْعِدَّةِ، وَحَدِيثُ ابْنِ شِهَابٍ مَقْطُوعٌ، وَقَالَ فِي الْإِمْلَاءِ: وَرَّثَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَقَدْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ قَالَ: وَهُوَ فِيمَا يُخَيَّلُ إِلِيَّ أَثْبَتُ الْحَدِيثَيْنِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَالَّذِي يُؤَكِّدُ رِوَايَةَ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ طَلْحَةَ وَأَبِي سَلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی حدیث متصل ہے اور وہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے عدت میں وارث بنایا، جبکہ زہری رحمہ اللہ کی حدیث مقطوع ہے اور فرماتے ہیں: املا میں ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی کو عدت گزرنے کے بعد وارث بنایا تھا جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے تین طلاقیں دے دی تھیں۔ فرماتے ہیں: وہ میرے خیال میں دونوں احادیث سے زیادہ مثبت بھی ہے۔
شیخ (امام بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: اور جو چیز ابن شہاب کی طلحہ اور ابوسلمہ سے روایت کی تائید کرتی ہے وہ (اگلی) روایت ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15127
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ نا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَصْبَغُ بْنُ فَرَجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، يُكَلِّمُ الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ عَلَى عَشَائِهِ وَنَحْنُ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ نَكَحَ ابْنَةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ ضِرَارًا لِابْنَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ حِينَ أَبَتْ أَنْ تَبِيعَهُ مِيرَاثَهَا مِنْهُ فِي وَجَعِهِ حِينَ أَصَابَهُ الْفَالِجُ، ثُمَّ لَمْ يَنْتَهِ إِلَى ذَلِكَ حَتَّى طَلَّقَ أُمَّ كُلْثُومٍ فَحَلَّتْ فِي وَجَعِهِ وَهَذَا السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ حَيٌّ يَشْهَدُ عَلَى قَضَاءِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي تُمَاضِرَ بِنْتِ الْأَصْبَغِ، وَرَّثَهَا مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ مَا حَلَّتْ وَيَشْهَدُ عَلَى قَضَاءِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ قَارِظٍ وَرَّثَهَا مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُكْمِلٍ بَعْدَ مَا حَلَّتْ فَادْعُهُ فَسَلْهُ عَنْ شَهَادَتِهِ، قَالَ الْوَلِيدُ حِينَ قَضَى كَلَامَهُ: مَا أَظُنُّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَضَى بِهَا، قَالَ مُعَاوِيَةُ إِنْ لَمْ يَشْهَدْ عَلَى ذَلِكَ السَّائِبُ فَأَنَا مُبْطِلٌ حَضَرَهُ وَعَايَنَهُ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ وَتَابَعَهُ ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ معاویہ بن عبداللہ بن جعفر رحمہ اللہ نے شام کے کھانے پر ولید بن عبدالملک سے بات کی جبکہ ہم مکہ اور مدینہ کے درمیان میں تھے۔ معاویہ رحمہ اللہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہما کی بیٹی سے نکاح صرف عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کی بیٹی کو پریشان کرنے کے لیے کیا ہے۔ جب اس نے فالج کی بیماری کے دوران ان سے اپنی میراث انہیں فروخت کرنے سے انکار کر دیا تھا، پھر ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے اپنی بیوی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو طلاق دی اور وہ ان کی بیماری کے ایام میں ہی حلال ہو گئی (یعنی عدت پوری ہو گئی) اور یہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہما زندہ ہیں، جو تماضر بنت اصبغ رضی اللہ عنہا کے فیصلے کے وقت موجود تھے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انھیں عدت گزرنے کے بعد عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا وارث بنایا تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ام حکیم بنت قارظ رضی اللہ عنہا کو عبداللہ بن مکمل رضی اللہ عنہ کا بھی عدت گزرنے کے بعد وارث بنایا تھا۔ آپ ان سے پوچھ لیں، ان کی بات مکمل ہونے کے بعد ولید نے کہا: میرا خیال ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ نہیں فرمایا۔ معاویہ رحمہ اللہ کہنے لگے: اگر سائب رضی اللہ عنہما اس کی گواہی نہ دیں تو میں غلطی پر ہوں، وہ اس فیصلے کے وقت موجود تھے اور انہوں نے اسے دیکھا تھا۔
یہ سند متصل ہے اور ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے اس کی متابعت کی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15128
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: بَلَغَنِي أَنَّ امْرَأَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَأَلَتْهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا ⦗٥٩٥⦘ فَقَالَ لَهَا: إِذَا حِضْتِ ثُمَّ طَهُرْتِ فَآذِنِينِي فَلَمْ تَحِضْ حَتَّى مَرِضَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا طَهُرَتْ آذَنَتْهُ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ أَوْ تَطْلِيقَةً لَمْ يَكُنْ بَقِيَ لَهُ عَلَيْهَا مِنَ الطَّلَاقِ غَيْرُهَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يَوْمَئِذٍ مَرِيضٌ " فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهُ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالَّذِي أَخْتَارُهُ إِنْ وَرِثَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ أَنْ تَرِثَ مَا لَمْ تَتَزَوَّجْ فَإِذَا تَزَوَّجَتْ فَلَا تَرِثُهُ فَتَرِثُ زَوْجَيْنِ وَتَكُونُ كَالتَّارِكَةِ لِحَقِّهَا بِالتَّزْوِيجِ.
حافظ ثناء اللہ
ربیعہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا تو انہوں نے فرمایا: جب تو حیض کے بعد پاک ہو جائے تو مجھے بتانا، وہ حائضہ ہی نہ ہوئی تھی کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ جب وہ پاک ہوئی تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے تین طلاقیں دے دیں یا ایک طلاق دے دی، اس کی کوئی طلاق باقی نہ تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیمار تھے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عدت گزرنے کے بعد بھی اسے وارث بنایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ عدت گزر جانے کے بعد وارث ہو سکتی ہے تو اگر شادی نہ کرے تو وارث ہو گی، اگر آگے شادی کر لے تو وارث نہ ہو گی، ورنہ وہ دو خاوندوں کی وارث بنے گی گویا کہ اس نے شادی کی وجہ سے اپنا حق چھوڑ دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15129
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ، مِنْ قُرَيْشٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يُطَلِّقُ وَهُوَ مَرِيضٌ: " لَا نَزَالُ نُوَرِّثُهَا حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ تَتَزَوَّجَ وَإِنْ مَكَثَ سَنَةً " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ غَيْرُهُمْ: تَرِثُهُ مَا لَمْ تَنْقَضِ الْعِدَّةُ وَرَوَاهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے بیماری کی حالت میں طلاق دی کہ ہم اس کی بیوی کو اس کی تندرستی تک اس کا وارث بناتے یا وہ شادی کر لے اگرچہ ایک سال تک انتظار کرے۔
«قَالَ الشَّافِعِيُّ» ”شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:“ کہ دوسرے لوگوں نے کہا: عدت ختم نہ ہونے تک وہ وارث ہے، اور انہوں نے اسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایسی سند سے روایت کیا ہے جس جیسی سند محدثین کے نزدیک ثابت نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15130
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
يَعْنِي مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي الَّذِي طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ قَالَ: " تَرِثُهُ فِي الْعِدَّةِ وَلَا يَرِثُهَا " وَهَذَا مُنْقَطِعٌ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مُغِيرَةُ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِنَّمَا قَالَ: ذَكَرَ عُبَيْدَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَرَ، وَعُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ ضَعِيفٌ وَلَمْ يَرْفَعْهُ عُبَيْدَةُ إِلَى عُمَرَ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنْهُ إِنَّمَا ذَكَرَهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ عَنْ شُرَيْحٍ لَيْسَ فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗٥٩٦⦘.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے حالتِ مرض میں اپنی بیوی کو طلاق دی کہ عورت عدت میں مرد کی وارث ہو گی لیکن مرد عورت کا وارث نہ ہو گا۔
یہ روایت منقطع ہے، مغیرہ نے اسے ابراہیم سے نہیں سنا، بلکہ انہوں نے کہا: عبیدہ نے ابراہیم سے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا، اور عبیدہ ضبی ضعیف ہے، اور یحییٰ قطان کی عبیدہ سے روایت میں عبیدہ نے اسے عمر تک نہیں پہنچایا، بلکہ اسے ابراہیم سے، اور شعبی سے، وہ شریح سے ذکر کیا ہے، اس میں عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15131
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ قَالَ: قَالَ الرَّبِيعُ قَدِ اسْتَخَارَ اللهَ فِيهِ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ فَقَالَ: لَا تَرِثُ الْمَبْتُوتَةُ، قَالَ الرَّبِيعُ: وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَلَّقَهَا عَلَى أَنَّهَا لَا تَرِثُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ عِنْدَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ربیع فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اللہ سے استخارہ کیا تو فرماتے ہیں کہ طلاقِ بتہ والی عورت وارث نہ ہوگی۔
(ب) ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی کہ وہ ان شاء اللہ اس کی وارث نہ ہوگی۔
(39) «بَابُ الشَّکِّ فِي الطَّلَاقِ وَمَنْ قَالَ لَا تَحْرُمُ إِلَّا بِيَقِينِ تَحْرِيمٍ» ”طلاق میں شک کا بیان اور جو کہتا ہے کہ عورت صرف یقین کی بنا پر حرام ہوتی ہے“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15132
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: " لَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کو شکایت کی گئی کہ آدمی کو خیال آتا ہے کہ اس نے حالت نماز میں کچھ محسوس کیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نماز نہ چھوڑے یہاں تک کہ آواز یا بو کو محسوس کر لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15133
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، نا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فِي رَجُلٍ لَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ ⦗٥٩٧⦘ فَطَلَّقَ إِحْدَاهُنَّ وَلَمْ يَدْرِ أَيَّتَهُنَّ طَلَّقَ، فَقَالَ: " يَنَالُهُنَّ مِنَ الطَّلَاقِ مَا يَنَالُهُنَّ مِنَ الْمِيرَاثِ" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أنا أَبُو بِشْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا. قَوْلُهُ: يَنَالُهُنَّ مِنَ الطَّلَاقِ مَا يَنَالُهُنَّ مِنَ الْمِيرَاثِ يَقُولُ: لَوْ مَاتَ الرَّجُلُ وَقَدْ طَلَّقَ وَاحِدَةً لَا يَدْرِي أَيَّتَهُنَّ هِيَ فَإِنَّ الْمِيرَاثَ يَكُونُ بَيْنَهُنَّ جَمِيعًا يَعْنِي مَوْقُوفًا حَتَّى تُعْرَفَ بِعَيْنِهَا، كَذَلِكَ إِذَا طَلَّقَهَا وَلَمْ يَعْلَمْ أَيَّتَهُنَّ هِيَ فَإِنَّهُ يَعْتَزِلُهُنَّ جَمِيعًا إِذَا كَانَ الطَّلَاقُ ثَلَاثًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعبید رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک شخص کی چار بیویاں تھیں، اس نے ایک کو طلاق دے دی، وہ جانتا نہ تھا کہ کس کو طلاق دی ہے تو فرماتے ہیں کہ «يَنَالُهُنَّ مِنَ الطَّلَاقِ مَا يَنَالُهُنَّ مِنَ الْمِيرَاثِ» ”ان عورتوں کو طلاق میں وہی پہنچے گا جو انہیں وراثت میں پہنچتا ہے“ یعنی اگر آدمی فوت ہو جائے اور ایک بیوی کو طلاق دی تھی معلوم نہیں وہ کون سی تھی تو وراثت سب کو ملے گی جب تک طلاق والی بیوی متعین نہ ہو جائے، یا پھر ان تمام کو جدا کر دیا جائے گا جب تین طلاقیں ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15134
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»