السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: طلاق العبد بغير إذن سيده باب: غلام کا اپنے آقا کی اجازت کے بغیر طلاق دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15116
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِيُّ نا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، نا أَبُو الْحَجَّاجِ الْمَهْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ ⦗٥٩١⦘ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو أَنَّ مَوْلَاهُ زَوَّجَهُ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُزَوِّجُونَ عَبِيدَهُمْ إِمَاءَهُمْ ثُمَّ يُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ، أَلَا إِنَّمَا يَمْلِكُ الطَّلَاقَ مَنْ يَأْخُذُ بِالسَّاقِ " خَالَفَهُ ابْنُ لَهِيعَةَ فَرَوَاهُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ مُرْسَلًا.حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، وہ اپنے غلام کی شکایت کر رہا تھا کہ اس نے شادی کر لی ہے، وہ ان کے درمیان تفریق کا ارادہ رکھتا تھا، آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنے غلاموں کی شادی اپنی لونڈیوں سے کر دیتے ہیں، پھر ان کے درمیان تفریق چاہتے ہیں؟ خبردار! طلاق کا وہ مالک ہے جو پنڈلی کو پکڑتا ہے“ یعنی جس کی بیوی ہے۔