السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: طلاق العبد بغير إذن سيده باب: غلام کا اپنے آقا کی اجازت کے بغیر طلاق دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15115
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، نا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ نُفَيْعًا، مُكَاتَبًا لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَبْدًا كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ فَطَلَّقَهَا اثْنَتَيْنِ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَأَمَرَهُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَذَهَبَ إِلَيْهِ فَلَقِيَهُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذًا بِيَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُمَا فَابْتَدَرَاهُ جَمِيعًا فَقَالَا: " حُرِّمَتْ عَلَيْكَ، حُرِّمَتْ عَلَيْكَ " وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ.حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفیع، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب تھے یا غلام تھے جن کے نکاح میں آزاد عورت تھی، اس نے اسے دو طلاقیں دے دیں۔ پھر اس نے رجوع کا ارادہ کیا تو ازواجِ مطہرات نے اسے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کر دیا تاکہ وہ ان سے اس بارے میں سوال کرے۔ وہ ان کے پاس گیا تو وہ اسے سیڑھیوں کے پاس ملے، جہاں وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، اس نے ان دونوں سے سوال کیا تو ان دونوں رضی اللہ عنہما نے جواب دینے میں جلدی کی کہ وہ تیرے اوپر حرام ہے، وہ تیرے اوپر حرام ہے۔