السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: طلاق العبد بغير إذن سيده باب: غلام کا اپنے آقا کی اجازت کے بغیر طلاق دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15117
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، نا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، نا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ مَمْلُوكًا، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَمْلِكُ الطَّلَاقَ مَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ " لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا وَفِيهِ ضَعْفٌ.حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن ایوب، عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک غلام نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے اس طرح ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”طلاق کا وہ مالک ہے جس نے پنڈلی پکڑی، یعنی بیوی بنائی۔“
انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا، اور یہ ایک دوسری سند سے مرفوعاً بھی مروی ہے اور اس میں ضعف ہے۔