کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: غلام کا اپنے آقا کی اجازت کے بغیر طلاق دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15114
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230] وَقَالَ فِي الْمُطَلَّقَاتِ وَاحِدَةً: {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنَّ أَرَادُوا إِصْلَاحًا} [البقرة: 228] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: كَانَ الْعَبْدُ مِمَّنْ عَلَيْهِ حَرَامٌ وَلَهُ حَلَالٌ فَحَرَّمَهُ بِالطَّلَاقِ وَلَمْ يَكُنِ السَّيِّدُ مِمَّنْ حَلَّتْ لَهُ امْرَأَتُهُ فَيَكُونُ لَهُ تَحْرِيمُهَا.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ ”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“ [سورة البقرة: 230]
اور ایک طلاق والی عورتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنَّ أَرَادُوا إِصْلَاحًا﴾ ”اور ان کے شوہر اس (مدت) میں انہیں واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں اگر وہ اصلاح کا ارادہ رکھیں۔“ [سورة البقرة: 228]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام ان لوگوں میں سے تھا جن پر (بیوی) حرام تھی اور (نکاح کے ذریعے) ان کے لیے حلال ہوئی، تو اس نے طلاق کے ذریعے اسے (اپنے اوپر) حرام کیا، اور آقا ان لوگوں میں سے نہیں تھا جن کے لیے اس (غلام) کی بیوی حلال ہوئی ہو کہ اسے اس کو حرام کرنے کا اختیار حاصل ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15114
حدیث نمبر: 15114
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، نا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ: " مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِهِ أَنْ يَنْكِحَ فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ، لَيْسَ بِيَدِ غَيْرِهِ مِنْ طَلَاقِهِ شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے اپنے غلام کو نکاح کرنے کی اجازت دے دی تو طلاق کا اختیار غلام کو ہی ہے، کوئی دوسرا اس کی جانب سے طلاق کا اختیار نہیں رکھتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15114
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15115
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، نا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ نُفَيْعًا، مُكَاتَبًا لِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَبْدًا كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ فَطَلَّقَهَا اثْنَتَيْنِ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَأَمَرَهُ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَذَهَبَ إِلَيْهِ فَلَقِيَهُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذًا بِيَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُمَا فَابْتَدَرَاهُ جَمِيعًا فَقَالَا: " حُرِّمَتْ عَلَيْكَ، حُرِّمَتْ عَلَيْكَ " وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفیع، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب تھے یا غلام تھے جن کے نکاح میں آزاد عورت تھی، اس نے اسے دو طلاقیں دے دیں۔ پھر اس نے رجوع کا ارادہ کیا تو ازواجِ مطہرات نے اسے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کر دیا تاکہ وہ ان سے اس بارے میں سوال کرے۔ وہ ان کے پاس گیا تو وہ اسے سیڑھیوں کے پاس ملے، جہاں وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، اس نے ان دونوں سے سوال کیا تو ان دونوں رضی اللہ عنہما نے جواب دینے میں جلدی کی کہ وہ تیرے اوپر حرام ہے، وہ تیرے اوپر حرام ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15115
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15116
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِيُّ نا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، نا أَبُو الْحَجَّاجِ الْمَهْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ ⦗٥٩١⦘ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو أَنَّ مَوْلَاهُ زَوَّجَهُ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُزَوِّجُونَ عَبِيدَهُمْ إِمَاءَهُمْ ثُمَّ يُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ، أَلَا إِنَّمَا يَمْلِكُ الطَّلَاقَ مَنْ يَأْخُذُ بِالسَّاقِ " خَالَفَهُ ابْنُ لَهِيعَةَ فَرَوَاهُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، وہ اپنے غلام کی شکایت کر رہا تھا کہ اس نے شادی کر لی ہے، وہ ان کے درمیان تفریق کا ارادہ رکھتا تھا، آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنے غلاموں کی شادی اپنی لونڈیوں سے کر دیتے ہیں، پھر ان کے درمیان تفریق چاہتے ہیں؟ خبردار! طلاق کا وہ مالک ہے جو پنڈلی کو پکڑتا ہے“ یعنی جس کی بیوی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15116
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15117
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، نا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، نا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ مَمْلُوكًا، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَمْلِكُ الطَّلَاقَ مَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ " لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا وَفِيهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
ایوب، عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک غلام نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے اس طرح ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”طلاق کا وہ مالک ہے جس نے پنڈلی پکڑی، یعنی بیوی بنائی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15117
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»